Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 57:8 Prev 57:6


Arabic

ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَأَنفِقُواْ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسۡتَخۡلَفِينَ فِيهِۖ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَأَنفَقُواْ لَهُمۡ أَجۡرٞ كَبِيرٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اُن چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے


English (Sahih International)

Believe in Allah and His Messenger and spend out of that in which He has made you successors. For those who have believed among you and spent, there will be a great reward


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 7{ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ } ”ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور خرچ کرو ان سب میں سے جن میں اس نے تمہیں خلافت عطا کی ہے۔“ خلافت کے حوالے سے انسان کو سب سے زیادہ اختیار تو اپنے جسم پر عطا کیا گیا ہے۔ اس میں اس کے مختلف اعضاء ہیں ‘ طاقت جسمانی ‘ طلاقت لسانی ‘ ذہانت و فطانت اور دوسری بہت سی صلاحیتیں ہیں۔ پھر مال و دولت ‘ اولاد اور دوسری بیشمار نعمتیں ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کو معبود ماننے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ان خداداد صلاحیتوں اور نعمتوں کو اللہ کی رضا کے لیے اس کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہے۔ واضح رہے کہ ”نفق“ کا لفظ مال و دولت خرچ کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور جان خرچ کردینے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ نَفَقَتِ الدَّرَاھِمکے معنی ہیں رقم ختم ہوگئی اور نَفَقَ الْفَرس کے معنی ہیں گھوڑا مرگیا۔ یہاں یہ آیت پڑھتے ہوئے ضروری ہے کہ سورة الحجرات کی اس آیت کو بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ۔ } ”مومن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر شک میں ہر گز نہیں پڑے اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔ یہی لوگ ہیں جو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔“ ان دونوں آیات میں دو دو مطالبات آئے ہیں ‘ پہلا مطالبہ دونوں میں مشترک ہے یعنی { اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ } ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔ جبکہ دوسرے مطالبے کے حوالے سے سورة الحجرات کی مذکورہ بالا آیت میں جہاد کا ذکر ہے کہ اپنے جان و مال کے ساتھ جہاد کرو ‘ اور زیر مطالعہ آیت میں ہر اس چیز کے انفاق کا حکم ہے جس پر انسان کو خلیفہ بنایا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس میں انفاقِ مال بھی شامل ہے اور بذل نفس یعنی انفاقِ جان بھی۔ { فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَاَنْفَقُوْا لَھُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌ۔ } ”پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے اپنے مال و جان کو خرچ کیا ‘ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔“ جس خوش نصیب نے مذکورہ دونوں مطالبات پورے کردیے ‘ یعنی اسے یقین والا ایمان بھی نصیب ہوگیا اور اس نے اپنی زیر ملکیت ہرچیز کو اللہ کی رضا کے لیے پیش بھی کردیا تو اس کے گویا وارے نیارے ہوگئے۔ وہ بہت بڑے اجر کا مستحق ٹھہرا۔۔۔۔ - - مضمون کے حوالے سے یہاں آیات کے ربط و نظم کی خوبصورتی اور مندرجات کی ترتیب ملاحظہ کیجیے کہ پہلے ایک آیت میں دو مطالبات کا ذکر کر کے ان کے بارے میں ترغیب دی گئی ہے۔ اب اس کے بعد ان میں سے ہر مطالبے سے متعلق دو دو آیات اس طرح آرہی ہیں کہ پہلی آیت میں زجر یعنی ڈانٹ ڈپٹ کا انداز ہے ‘ جبکہ دوسری میں راہنمائی اور ترغیب دی گئی ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 7 to 15.

سچا اسلام جب ماحول میں اجنبی ہو، اس وقت سچے اسلام کی طرف بڑھنا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام کی حقیقت پر شبہات کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسلام کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہوتا ہے گویا امید موہوم پر کسی کو قرض دینا۔ شک اور تردد کی فضا ہر طرف لوگوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ خدا کے وعدوں کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنے سامنے کے فائدے زیادہ یقینی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنی جان و مال کو اسلام کے حوالہ کرنا زبردست قوت فیصلہ چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں وہی شخص آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے جو عقل و بصیرت کی طاقت سے چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

جو لوگ دنیا میں اس بصیرت کا ثبوت دیں ان کی بصیرت قیامت کے دن ان کے لیے روشنی بن جائے گی جس میں وہ وہاں کے مشکل مراحل میں اپنا سفر طے کرسکیں۔ جو بصیرت دنیا میں ان کی رہنما بنی تھی وہی بصیرت آخرت میں بھی اللہ کی مدد سے ان کے لیے رہنما کا کام انجام دے گی۔


Connections

  • Previous: 57_6
  • Next: 57_8
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes