Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَوۡمَ تَرَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَسۡعَىٰ نُورُهُم بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَبِأَيۡمَٰنِهِمۖ بُشۡرَىٰكُمُ ٱلۡيَوۡمَ جَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اُس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (ان سے کہا جائے گا کہ) “آج بشارت ہے تمہارے لیے” جنتیں ہونگی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہی ہے بڑی کامیابی
English (Sahih International)
On the Day you see the believing men and believing women, their light proceeding before them and on their right, [it will be said], “Your good tidings today are [of] gardens beneath which rivers flow, wherein you will abide eternally.” That is what is the great attainment
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 12{ یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ } ”جس دن تم دیکھو گے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو کہ ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے سامنے اور ان کے داہنی طرف“ بعض مفسرین کی رائے کے مطابق ”یَوْمَ“ سے پہلے ”اُذْکُرْ“ محذوف ہے۔ یعنی ذرا تصور کرو اس دن کا جس دن مومن مردوں اور مومن عورتوں پر یہ عنایت خاص ہوگی۔ ان کے سامنے ان کے ایمان کا نور ہوگاجب کہ داہنی طرف اعمالِ صالحہ کی روشنی ہوگی۔ یہ مضمون سورة التحریم میں مکرر آئے گا۔ وہاں اس پر ‘ ان شاء اللہ ‘ قدرے تفصیل سے گفتگو ہوگی۔ { بُشْرٰٹکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا } ”ان سے کہا جائے گا : آج تمہارے لیے بشارت ہے ان جنتوں کی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ‘ تم رہو گے اس میں ہمیشہ ہمیش۔“ { ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ } ”یقینا یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 57:7.