Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَٱلطُّورِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
قسم ہے طور کی
English (Sahih International)
By the mount
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 1{ وَالطُّوْرِ۔ } ”قسم ہے طور کی۔“ طور عام پہاڑ کو بھی کہا جاتا ہے ‘ لیکن ”الطُّور“ سے مراد وہ خاص پہاڑ طور ِسینین٭ ہے جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے تھے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 16.
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 52_2
- Thematic: (add links here)