Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنقُصُ ٱلۡأَرۡضُ مِنۡهُمۡۖ وَعِندَنَا كِتَٰبٌ حَفِيظُۢ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
زمین ان کے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے
English (Sahih International)
We know what the earth diminishes of them, and with Us is a retaining record
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 4 { قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْہُمْ ج } ”ہم خوب جانتے ہیں کہ زمین ان میں سے کیا چیز کم کرتی ہے۔“ ”ہم“ کے صیغے کے ساتھ یہ شاہانہ اندازِ بیان ہے۔ انسانوں کے دفن ہونے کے بعد زمین ان کے جسموں کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے ‘ ہر انسان کا کون سا عضو کیسے ضائع ہوتا ہے اور پھر ان کے اجزاء کس کس صورت میں کہاں کہاں جاتے ہیں ‘ ہمیں ایک ایک چیز کا علم ہے۔ { وَعِنْدَنَا کِتٰبٌ حَفِیْظٌ۔ } ”اور ہمارے پاس تو ایک محفوظ رکھنے والی کتاب بھی موجود ہے۔“ ہمارے پاس ایک ایک چیز کا ریکارڈ موجود ہے۔ ان کے جسموں کو ہم نے مٹی سے پیدا کیا تھا اور ان کی موت کے بعد ان کے تمام اجزاء کو ہم مٹی میں ہی محفوظ رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن اسی مٹی سے ہم انہیں نکال لیں گے : { مِنْھَا خَلَقْنٰـکُمْ وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی۔ } طٰہٰ ۔ اس کے علاوہ ان کے ایک ایک عمل کی پوری تفصیل بھی ہم نے لکھ رکھی ہے اور ان کی ارواح بھی ہمارے پاس عِلِّیّین یا سِجِّین میں موجود ہیں۔ غرض ان کی کوئی چیز بھی ہمارے علم یا قبضے سے باہر نہیں ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 50:1.