Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
قٓۚ وَٱلۡقُرۡءَانِ ٱلۡمَجِيدِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ق، قسم ہے قرآن مجید کی
English (Sahih International)
Qaf. By the honored Qur’an
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 1{ قٓ قف وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ۔ } ”ق ‘ قسم ہے عظیم الشان قرآن کی۔“ قرآن کی تین سورتیں ایسی ہیں جن کے آغاز میں صرف ایک ایک حرفِ مقطعہ ہے۔ ان میں سورة قٓ کے علاوہ تیئسویں پارے کی سورة صٓ اور انتیسویں پارے کی سورة القلم یا سورة نٓ شامل ہیں۔ بہت سی دوسری سورتوں کے آغاز کی طرح اس سورت کے آغاز میں بھی قرآن مجید کی قسم کا مقسم علیہ محذوف ہے۔ بہرحال چونکہ سورة یٰسٓ کے آغاز میں قرآن حکیم کی قسم کا مقسم علیہ موجود ہے اس لیے اس قسم کا مقسم علیہ بھی وہی ہوگا ‘ یعنی { اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ } یٰسٓ۔ چناچہ اس آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ اے محمد ﷺ قسم ہے اس عظیم الشان قرآن کی ‘ بیشک آپ مرسلین میں سے ہیں۔ اس قسم کے فوراً بعد دوسری آیت میں حضور ﷺ کا تعارف انذارِ آخرت کے حوالے سے کرایا گیا ہے جو اس سورت کا مرکزی مضمون ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 5.
پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے ہم زمانہ لوگ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ البتہ جب بعد کا زمانہ آتا ہے تو لوگ آسانی کے ساتھ ان کی پیغمبرانہ حیثیت کو تسلیم کرلیتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اپنے ہم زمانہ لوگوں کو’’اپنے برابر کا ایک شخص‘‘ نظر آتا ہے۔ یہ بات ان کے لیے تعجب خیز بن جاتی ہے کہ جس شخص کو وہ اپنے برابر کا سمجھے ہوئے تھے وہ اچانک بڑا بن کر ان کو نصیحت کرنے لگے۔ مگر بعد کے زمانہ میں پیغمبر کے ساتھ عظمتوں کی تاریخ وابستہ ہوچکی ہوتی ہے۔ اس لیے بعد کے لوگوں کو وہ “اپنے سے برتر شخص” دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر کی پیغمبرانہ حیثیت کو ماننا لوگوں کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔ بالفاظ دیگر، ابتدائی دور کے لوگوں کے سامنے پیغمبر ایک نزاعی شخصیت کے روپ میں ہوتا ہے۔ اور بعد کے لوگوں کے سامنے ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں۔ دور اول کے لوگوں کو اپنے اور پیغمبر کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لیے شعوری سفر طے کرنا پڑتا ہے، جب کہ بعد کے زمانہ میں یہ خلا خود تاریخ پر کرچکی ہوتی ہے۔
جو لوگ پیغمبر کی پیغمبری پر شبہ کر رہے ہوں ان کی نظر میں پیغمبر کی ہر بات مشتبہ ہوجاتی ہے حتی کہ وہ بات بھی جس کا عقیدہ روایتی طور پر ان کے یہاں موجود ہوتا ہے۔ تاہم یہ باتیں لوگوں کے لیے عذر نہیں بن سکتیں۔ پیغمبر کو نہ ماننے والے اگر اس کی کتاب کی ناقابلِ تقلید ادبی عظمت پر غور کریں تو وہ اس کے لانے والے کو خدا کا پیغمبر ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 50_2
- Thematic: (add links here)