Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ ٱلۡغُرُوبِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پس اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو، طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے
English (Sahih International)
So be patient, [O Muhammad], over what they say and exalt [Allah] with praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 39{ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَـقُوْلُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ آپ صبر کیجیے اس پر جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں“ { وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَـبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَـبْلَ الْغُرُوْبِ۔ } ”اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے سورج کے طلوع ہونے سے قبل اور غروب ہونے سے قبل۔“ جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہوچکا ہے ‘ زیر مطالعہ سورتیں مکی دور کے ابتدائی چار سال کے دوران نازل ہوئی تھیں۔ اس وقت تک پنج گانہ نماز کا باقاعدہ نظام وضع نہیں ہوا تھا۔ پنج گانہ نماز تو معراج کے موقع پر 10 نبوی ﷺ میں فرض ہوئی تھی۔ اس سے پہلے تو بس صبح وشام اللہ کا ذکر کرنے کی بار بار تلقین و تاکید کی جاتی تھی ‘ جیسا کہ سورة طٰہ کی آیت 130 میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں یا اس سے بھی پہلے سورة المزمل میں رات کی نماز اور اس میں تلاوتِ قرآن کا حکم آچکا تھا۔ بعد میں جب باقاعدہ اوقات کے ساتھ پانچ نمازوں کا نظام وضع ہوا تو ان دو اوقات میں دو نمازیں فرض ہوگئیں ‘ یعنی قَـبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ کے اوقات میں فجر کی نماز اور قَـبْلَ الْغُرُوْبِ کے وقت میں نماز عصر۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 50:38.