Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 50:39 Prev 50:37


Arabic

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کر دیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہوئی


English (Sahih International)

And We did certainly create the heavens and earth and what is between them in six days, and there touched Us no weariness


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 38{ وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ق } ”اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے پیدا کیا چھ دنوں میں۔“ { وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّــغُوْبٍ۔ } ”اور ہم پر کوئی تکان طاری نہیں ہوئی۔“ یہ مضمون موجودہ تورات میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کر کے تھکن دور کی۔ اسی وجہ سے یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں ”ویک اینڈ“ کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن کام کرنے کے بعد ساتویں دن آرام کیا تھا ‘ لہٰذا تم لوگ بھی چھ دن کام کر کے ساتویں دن آرام کرو۔ اس آیت میں دراصل تورات کے اس تصور کی نفی کی گئی ہے۔ چناچہ اسلام میں ”ویک اینڈ“ کا کوئی تصور نہیں۔ اس حوالے سے یہ تاریخی حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ اصل تورات بخت نصر کے حملے میں گم ہوگئی تھی اور دوبارہ اس کو یادداشت کی مدد سے مرتب کیا گیا تھا۔ مرتبین چونکہ عام انسان تھے ‘ نبی نہیں تھے ‘ اس لیے ان کی یادداشتوں نے ٹھوکریں کھائیں اور بہت سی غلط باتیں بھی اس میں شامل کردی گئیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 38 to 40.

زمین و آسمان کو چھ دنوں، بالفاظ دیگر چھ ادوار میں پیدا کرنا بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ تدریجی عمل کا طریقہ ہے۔ اور جب خدا ساری طاقتوں کا مالک ہونے کے باوجود واقعات کو تدریج کے ساتھ لمبی مدت میں ظہور میں لاتا ہے تو انسان کو بھی چاہيے کہ وہ جلد بازی سے بچے، وہ صابرانہ عمل کے ذریعہ نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔

دعوت کا عمل شروع سے آخرتک صبر کا عمل ہے۔ اس میں انسان کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو سہنا پڑتا ہے۔ اس میں نتیجہ سامنے دکھائی نہ دینے کے باوجود اپنے عمل کو جاری رکھنا پڑتا ہے۔ اس صبر آزما عمل پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جس کے صبح و شام ذکر اور عبادت میں گزرتے ہوں، جو انسانوں سے نہ پا کر خدا سے پا رہا ہو، جو سب کچھ کھو کر بھی احساس محرومی کا شکار نہ ہوسکے۔

’’ہم کو تکان نہیں ہوتی‘‘ایک ضمنی فقرہ ہے۔ موجودہ محرف بائبل میں ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا(خروج

20:11

)۔ یہ فقرہ اسی کی تصحیح و تردید ہے۔ آرام وہ کرتا ہے جو تھکے۔ خدا کو تکان نہیں ہوتی اس لیے اس کو آرام کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔


Connections

  • Previous: 50_37
  • Next: 50_39
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes