Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 5:8 Prev 5:6


Arabic

وَٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَمِيثَٰقَهُ ٱلَّذِي وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اللہ نے تم کو جو نعمت عطا کی ہے اس کا خیال رکھو اور اُس پختہ عہد و پیمان کو نہ بھولو جو اُس نے تم سے لیا ہے، یعنی تمہارا یہ قول کہ، “ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی” اللہ سے ڈرو، اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے


English (Sahih International)

And remember the favor of Allah upon you and His covenant with which He bound you when you said, “We hear and we obey”; and fear Allah. Indeed, Allah is Knowing of that within the breasts


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 7 وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ ایک میثاق وہ تھا جو بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا ‘ اب ایک میثاق یہ ہے جو اہل ایمان سے ہو رہا ہے۔ چونکہ یہ سورة شروع ہوئی تھی یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآسے ‘ یعنی اہل ایمان سے خطاب ہے ‘ لہٰذا اس میثاق میں بھی اہل ایمان ہی مخاطب ہیں۔ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاز سورۃ البقرۃ کی آخری آیت سے پہلے والی آیت میں اہل ایمان کا یہ اقرار موجود ہے : سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاز غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ ۔ اب جو مسلمان بھی سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاکہتا ہے وہ گویا ایک میثاق اور ایک ‘ بہت مضبوط معاہدے کے اندر اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندھ جاتا ہے۔ یعنی اب اسے اللہ کی شریعت کی پابندی کرنی ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 7 to 10.

اسلام کی دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ اپنے ابتدائی مرحلہ میں ’’آیات بینات‘‘ کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ اس کو ماحول میں ’’فتح‘‘ حاصل ہوجائے۔ پہلے دور میں صرف وہ لوگ اسلام کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ کرتے ہیں جو دلائل کی سطح پر کسی چیز کی عظمت کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر جب اسلام کو فتح و غلبہ حاصل ہوجائے تو ہر آدمی اس کی عظمت کو دیکھ لیتا ہے اور ہر آدمی آگے بڑھ کر اس کے لیے جان و مال پیش کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

ابتدائی دور میں اسلام کے لیے خرچ کرنے والے کو یک طرفہ طور پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ دوسرے دور میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ آدمی جتنا خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ وه دو مختلف شکلوں میں اس کا انعام اسی دنیا میں پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کا درجہ اللہ کے یہاں یکساں نہیں۔


Connections

  • Previous: 5_6
  • Next: 5_8
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes