Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قُمۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغۡسِلُواْ وُجُوهَكُمۡ وَأَيۡدِيَكُمۡ إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ وَٱمۡسَحُواْ بِرُءُوسِكُمۡ وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَيۡنِۚ وَإِن كُنتُمۡ جُنُبٗا فَٱطَّهَّرُواْۚ وَإِن كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوۡ جَآءَ أَحَدٞ مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَآئِطِ أَوۡ لَٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا فَٱمۡسَحُواْ بِوُجُوهِكُمۡ وَأَيۡدِيكُم مِّنۡهُۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُم مِّنۡ حَرَجٖ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَلِيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے، شاید کہ تم شکر گزار بنو
English (Sahih International)
O you who have believed, when you rise to [perform] prayer, wash your faces and your forearms to the elbows and wipe over your heads and wash your feet to the ankles. And if you are in a state of janabah, then purify yourselves. But if you are ill or on a journey or one of you comes from the place of relieving himself or you have contacted women and do not find water, then seek clean earth and wipe over your faces and hands with it. Allah does not intend to make difficulty for you, but He intends to purify you and complete His favor upon you that you may be grateful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 6 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصّلٰوۃِ یعنی نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو۔وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ط یہاں پر واضح رہے کہ اَرْجُلَکُمْ اور اَرْجُلِکُمْ دونوں قراءتیں مستند ہیں ‘ لہٰذا اہل تشیّع اس کو مستقلاً ‘ اَرْجُلِکُمْپڑھتے ہیں اور ان کے نزدیک اس میں پاؤں پر مسح کا حکم ہے۔ چناچہ وہ وَامْسَحُوْا بِرُءُ وْسِکُم وَاَرْجُلِکُمْ کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں : اور مسح کرلیا کرو اپنے سروں پر بھی اور اپنے پاؤں پر بھی۔ لیکن اہل سنت کے نزدیک یہ اَرْجُلَکُمہے اور اِلَی الْکَعْبَیْنِکے اضافے سے یہاں پاؤں کو دھونے کا حکم بالکل واضح ہوگیا ہے۔ اگر صرف مسح کرنا مطلوب ہوتا تو اس میں کوئی حد بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لہٰذا اِلَی الْکَعْبَیْن کی شرط سے یہ ٹکڑا فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِق کے بالکل مساوی ہوگیا ہے۔ جیسے ہاتھوں کا دھونا ہے کہنیوں تک ‘ ایسے ہی پاؤں کا دھونا ہے ٹخنوں تک۔ اس حکم میں وضو کے فرائض بیان ہوئے ہیں۔وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوْا ط یعنی پورے جسم کا غسل کرو۔ جنابت کی حالت میں نماز پڑھنا یا قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں۔وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضآی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآءِطِ یہ استعارہ ہے قضائے حاجت کے لیے۔ عام طور پر لوگ قضائے حاجت کے لیے نشیبی جگہوں پر جاتے تھے۔ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا یعنی پاک مٹی سے تیمم کرلیا کرو۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
نماز کا مقصدآدمی کو برائیوں سے پاک کرنا ہے۔ وضو اسی کی ایک خارجی تیاری ہے۔ آدمی جب نماز کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے وہ پانی کے پاس جاتا ہے۔ پانی بہت بڑی نعمت ہے جو آدمی کے لیے ہر قسم کی گندگی کو دھونے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسی طرح نماز بھی ایک ربانی چشمہ ہے جس میں نہا کر آدمی اپنے آپ کو برے جذبات اور گندے خیالات سے پاک کرتا ہے۔
آدمی وضو کو شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتا ہے تو گویا عمل کی زبان میں یہ دعا کرتا ہے کہ خدایا میرے ان ہاتھوں کو برائی سے بچا اور ان کے ذریعہ جو برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں ان کو دھو کر صاف کردے۔ پھر وہ اپنے منھ میں پانی ڈالتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کی روح زبان حال سے کہہ اٹھتی ہے کہ خدایا میں نے اپنے منھ میں جو غلط خوراک ڈالی ہو، میںنے اپنی زبان سے جو برا کلمہ نکالا ہو، میری آنکھوں نے جو بری چیز دیکھی ہو ان سب کو تو مجھ سے دور کردے۔ پھر وہ پانی لے کر اپنے ہاتھوں کو سر کے اوپر پھیرتا ہے تو اس کا وجو د سراپا اس دعا میں ڈھل جاتا ہے کہ خدایا میرے ذہن نے جو بری باتیں سوچی ہوں اور جو غلط منصوبے بنائے ہوں ان کے اثرات کو مجھ سے دھو دے اور میرے ذہن کو پاک صاف ذہن بنادے۔ پھر جب وہ اپنے پیروں کو دھوتا ہے تو اس کا عمل اس کے لیے اپنے رب کے سامنے یہ درخواست بن جاتا ہے کہ وہ اس کے پیروں سے برائی کی گرد کو دھودے اور اس کو ایسا بنا دے کہ سچائی اور انصاف کے راستے کے سوا کسی اور راستہ پر وہ کبھی نہ چلے۔ اس طرح پورا وضو آدمی کے لیے گویا اس دعا کی عملی صورت بن جاتا ہے— خدایا مجھے غلطی سے پلٹنے والا بنا اور مجھ کو برائیوں سے پاک رہنے والا بنا۔
عام حالات میں پاکی کا احساس پیدا کرنے کے لیے وضو کافی ہے۔ مگر جنابت کی حالت ایک غیرمعمولی حالت ہے۔ اس لیے اس میں پورے جسم کا دھونا (غسل) ضروری قرار دیاگیا۔ وضو اگر چھوٹا غسل ہے تو غسل بڑا وضو ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں کہ وہ بندوں کو غیر ضروری مشقت میں ڈالے۔ اس لیے معذوری کی حالتوں میں پاکی کے احساس کو تازہ کرنے کے لیے تیمم کو کافی قرار دیا گیا۔ وضو اور غسل کے سادہ طریقے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اس طرح طہارت شرعی کو طہارت طبعی کے ساتھ جوڑدیاگیا ہے۔ معذوری کی حالت میں تیمم کی اجازت مزید نعمت ہے کیوں کہ یہ غلو سے بچانے والی ہے جس میں اکثر مذاہب كے لوگ مبتلا ہوئے۔