Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمۡ كَثِيرٗا مِّمَّا كُنتُمۡ تُخۡفُونَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖۚ قَدۡ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٞ وَكِتَٰبٞ مُّبِينٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے اہل کتاب! ہمارا رسول تمہارے پاس آ گیا ہے جو کتاب الٰہی کی بہت سی اُن باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کر جاتا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آ گئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب
English (Sahih International)
O People of the Scripture, there has come to you Our Messenger making clear to you much of what you used to conceal of the Scripture and overlooking much. There has come to you from Allah a light and a clear Book
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 15 and 16.
آیت 15 یٰٓاَ ہْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍط قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ ۔ یہاں نور سے مراد نبی اکرم ﷺ کی شخصیت بھی ہوسکتی ہے۔ سورة النساء آیت 174 میں جو فرمایا گیا : وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا اور نازل کردیا ہے ہم نے تمہاری طرف ایک روشن نور وہاں نور سے مراد قرآن ہے ‘ اس لیے کہ حضور ﷺ کے لیے فعل اَنْزَلْنَادرست نہیں۔ لیکن یہاں زیادہ احتمال یہی ہے کہ نور سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارکہ ہے ‘ یعنی آپ ﷺ کی روح پر نور ‘ کیونکہ آپ ﷺ کی روح اور روحانیت آپ ﷺ کے پورے وجود پر غالب تھی ‘ چھائی ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے آپ ﷺ کو نور مجسم بھی کہا جاسکتا ہے۔ گویا آپ ﷺ کو استعارۃً نور کہا گیا ہے۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہاں نور بھی قرآن پاک ہی کو کہا گیا ہو اور و اس میں واؤ تفسیری ہو۔ اس صورت میں مفہوم یوں ہوگا : آگیا ہے تمہارے پاس نور یعنی کتاب مبین۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 15 to 17.
اہلِ کتاب نے اپنے دین میں دو قسم کی غلطیاں کیں۔ ایک یہ کہ کچھ تعلیمات کو تاویل یا تحریف کے ذریعہ دین سے خارج کردیا۔ مثلاً انھوں نے اپنی کتاب میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ اب ان کو اپنی نجات کے لیے کسی اور پیغمبر کو ماننے کی ضرورت نہ تھی۔ اپنے آبائی مذہب سے وابستگی ان کی نجات کے لیے بالکل کافی تھی۔ دوسرے یہ کہ انھوں نے دین کے نام پر ایسی پابندیاں اپنے اوپر ڈال لیں جو خدا نے ان کے اوپر نہ ڈالی تھیں۔ مثال کے طور پر قربانی کی ادائیگی کے وہ جزئی مسائل جن کا حکم ان کے نبیوں نے ان کو نہیں دیا تھا بلکہ ان کے علماء نے اپنی فقہی موشگافیوں سے بطور خود ان کو گھڑلیا۔
قرآن ان کے لیے ایک نعمت بن کرآیا۔ اس نے ان کے لیے دین خداوندی کی ’’تجدید‘‘ کی۔ قرآن نے ان کو اندھیرے سے نکالا، يعني وہ ایسے راستے پر چلتے رہیں جس کے متعلق وہ اس خوش فہمی میں ہوں کہ وہ جنت کی طرف جارہا ہے، حالاں کہ وہ ان کو خدا کے غضب کی طرف لے جارہا ہو۔قرآن نے ایک طرف ان کی کھوئی ہوئی تعلیمات کو ان کی اصلی صورت میں پیش کیا۔ دوسری طرف قرآن نے یہ کیا کہ انھوں نے اپنے آپ کو جن غیرضروری دینی پابندیوں میں مبتلا کرلیا تھا اس سے انھیں آزاد کردیا۔ اب جو لوگ اپنی خواہشوں کی پیروی کریں وہ بدستور اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ او رجن کو اللہ کی رضا کی تلاش ہو وہ حق کی سیدھی راہ کو پالیں گے۔وہ اللہ کی توفیق سے اپنے آپ کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا اپنی کامل صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر وہ ہمیشہ دلیل کی زبان میں ہوتا ہے۔ اور دلیل انھیں لوگوں کے ذہن کا جزء بنتی ہے جو اس کے لیے اپنے ذہن کو کھلا رکھیں۔
خدا کو چھوڑ کر انسانوں نے جو خدا بنائے ہیں ان میں سے ہر ایک کا یہ حال ہے کہ وہ نہ کوئی چیز بطور خود پیدا کرسکتے ہیں اور نہ کسی چیز کو بطور خود مٹا سکتے ہیں۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں۔ جو ہستیاں پیدائش اور موت پر قادر نہ ہوں وہ خدا کس طرح ہوسکتی ہیں۔