Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 5:15 Prev 5:13


Arabic

وَمِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰٓ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَهُمۡ فَنَسُواْ حَظّٗا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦ فَأَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ ٱلۡعَدَاوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ ٱللَّهُ بِمَا كَانُواْ يَصۡنَعُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اِسی طرح ہم نے اُن لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم “نصاریٰ” ہیں، مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصہ اُنہوں نے فراموش کر دیا آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور آپس کے بغض و عناد کا بیج بو دیا، اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں


English (Sahih International)

And from those who say, “We are Christians” We took their covenant; but they forgot a portion of that of which they were reminded. So We caused among them animosity and hatred until the Day of Resurrection. And Allah is going to inform them about what they used to do


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 14 وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْآ اِنَّا نَصٰرآی اَخَذْنَا مِیْثَاقَہُمْ فَنَسُوْاحَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ وہ اس نصیحت سے فائدہ اٹھانا بھول گئے۔ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ط ‘ یہاں ایک اہم نکتہ تو یہ ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان پورے انیس سو برس شدید دشمنی رہی ہے۔ موجودہ دور میں صورت حال عارضی طور پر کچھ تبدیل ہوگئی ہے۔ عیسائی جنھیں اللہ کا بیٹا بلکہ خدا سمجھتے ہیں ‘ یہودیوں نے انہیں ولد الزنا قرار دیا اور کافر و مرتد کہتے ہوئے واجب القتل ٹھہرایا۔ یہ بنیادی اختلاف دونوں مذاہب کے پیروکاروں میں اس قدر اہم اور شدید ہے کہ اس کی موجودگی میں دونوں میں اتحاد و اتفاق ممکن ہی نہیں۔ لیکن آیت زیرنظر میں بنیادی طور پر عیسائیوں کی آپس کی دشمنی اور ان کا باہمی بغض وعناد مراد ہے۔ ان کے مختلف فرقوں کے درمیان نظر یاتی اختلافات ان کی دلی کدورتوں اور نفرتوں سے بڑھ کر بارہا باہمی جنگ و جدل کی شکل میں نمودار ہوتے رہے ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر عیسائی فرقوں کی آپس کی خانہ جنگیوں کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مذہب کے نام پر عیسائیوں کی خون ریزی اور قتل و غارت گری کی عبرت آموز اور رونگٹے کھڑے کردینے والی تفصیلات Blood on the Cross نامی ضخیم کتاب میں ملتی ہیں ‘ جو لندن سے شائع ہوئی ہے۔ خاص طور پر پروٹسٹنٹس Protestants اور کیتھولکس Catholics کی باہمی چپقلش تو کوئی پوشیدہ راز نہیں ‘ جس کی ہلکی سی جھلک آج بھی ہمیں آئرلینڈ میں نظر آتی ہے۔ وَسَوْفَ یُنَبِّءُہُمُ اللّٰہُ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ اب پھر وہی انداز ہے جو سورة النساء کے آخر میں تھا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

آسمانی کتاب کی حامل قوموں پر جب بگاڑ آتا ہے تو وہ دین کے محکم حصہ کو چھوڑ کر اس کے غیر محکم حصہ پر دوڑ پڑتی ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میں اختلاف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور آخرت میںرسوائی کی صورت میں۔

مسیح علیہ السلام باپ کے بغیر ایک پاکباز خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے۔ پیدائش کے بعد انھوں نے اپنی زبان سے اپنا جو تعارف کرایا وہ یہ تھا ’’میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں‘‘۔ اب حضرت مسیح کے بارے میں رائے قائم کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آنجناب نے اپنے بارے میں جو واضح الفاظ فرمائے ہیں انھیں کی پابندی کی جائے اور آپ کو وہی سمجھا جائے جو ان الفاظ سے براہِ راست طورپر معلوم ہوتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس معاملہ میں اپنے قیاس کو دخل دیا جائے اور کہا جائے کہ ’’انسان وہ ہے جو کسی باپ کا بیٹا ہو۔ مسیح کسی باپ کے بیٹے نہ تھے۔ اس لیے وہ خدا کے بیٹے تھے‘‘۔ پہلی رائے کی بنیادخود مسیح کا محکم اور مستند قول ہے۔ اس لیے اگر اس کو اختیار کیا جائے تو اس میں اختلاف پیدا نہ ہو گا۔ جب کہ دوسری رائے کی بنیاد محض انسانی قیاس پر ہے۔ اس لیے جب دوسری رائے کو اختیار کیا جائے گا تو رایوں کا اختلاف شروع ہوجائے گا، جیساکہ مسیح کو ماننے والوں کے ساتھ بعد کے زمانہ میں ہوا۔

آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم میں جب بگاڑ آتا ہے تو اس کے اندر اسی قسم کی خرابیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ محکم دین کو چھوڑ کر قیاسی دین پر چل پڑتی ہے۔ یہیں سے اختلاف اور فرقہ بندیوں کا دروزاہ کھل جاتا ہے۔ فقہ اور کلام، روحانیت اور سیاست میں خدا و رسول نے جو کھلے ہوئے احکام ديے ہیں لوگ ان کے سادہ مفہوم پر قانع نہیں رہتے بلکہ بطور خود نئي نئي بحثيں نكالتے هيں۔ كبھي زمانے كے خيالات سے متاثر هو كر، كبھي اپني دنيوي خواهشوں كو ديني جواز عطا كرنے كے ليے، كبھي بزعم خود خدا کے ناقص دین کو کامل بنانے کے لیے، اپنی طرف سے ایسی باتیں دین میں داخل کردی جاتی ہیں جو حقیقۃً دین کا حصہ نہیں ہوتیں۔ اس طرح نئے نئے دینی ایڈیشن تیار ہوجاتے ہیں۔ کوئی روحانی ایڈیشن، کوئی سیاسی ایڈیشن، کوئی اور ایڈیشن۔ ہر ایک کے گرد اس کے موافق ذوق رکھنے والے لوگ جمع ہوتے رہتے ہیں۔ بالآخر ان کا ایک فرقہ بن جاتا ہے۔ ان کی بعد کی نسلیں اس کو اسلام کا ورثہ سمجھ کر اس کی حفاظت شروع کردیتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ وہ قیامت تک کبھی ختم نہ ہو۔ کیوں کہ انسان ماضی کو ہمیشہ مقدس سمجھ لیتا ہے اور جو چیز مقدس بن جائے وہ کبھی ختم نہیں ہوتی — مذہب کے نام پر فرقہ بندی ایک طرف مقدس ہو کر ابدی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف خدا کا حکم بن کر دوسروں کے خلاف نفرت اور جارحیت کا اجازت نامہ بھی۔


Connections

  • Previous: 5_13
  • Next: 5_15
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes