Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِٱلشَّهَٰدَةِ عَلَىٰ وَجۡهِهَآ أَوۡ يَخَافُوٓاْ أَن تُرَدَّ أَيۡمَٰنُۢ بَعۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡۗ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡمَعُواْۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے، یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد ددسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہو جائے اللہ سے ڈرو اور سنو، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے
English (Sahih International)
That is more likely that they will give testimony according to its [true] objective, or [at least] they would fear that [other] oaths might be taken after their oaths. And fear Allah and listen; and Allah does not guide the defiantly disobedient people
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 108 ذٰلِکَ اَدْنآی اَنْ یَّاْتُوْا بالشَّہَادَۃِ عَلٰی وَجْہِہَآ اَوْ یَخَافُوْٓا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌم بَعْدَ اَیْمَانِہِمْ ط کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ اگر ہم نے جھوٹی قسم کھا بھی لی ‘ اور پھر اگر دوسرا فریق بھی قسم کھا گیا ‘ تو ہمارا منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔ لہٰذا وہ اس کی ہمت نہیں کریں گے۔وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاسْمَعُوْا ط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ اسی طرح کا معاملہ سورة النور آیات 6 تا 9 میں بھی مذکور ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھے اور اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہو تو وہ چار مرتبہ قسم کھا کر کہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔ تو اس ایک شخص کی گواہی چار گواہوں کے برابر ہوجائے گی۔ لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھی بتایا ہے ‘ کہ اگر بیوی بھی چار مرتبہ قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے ‘ مجھ پر تہمت لگا رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر اس کا الزام درست ہو ‘ تو شوہر کی گواہی ساقط ہوجائے گی۔ اس طرح دونوں طرف سے اللہ تعالیٰ نے معاملے کو متوازن کیا ہے۔ اب آخری دو رکوع اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام کے مکالمے کا نقشہ کھینچا گیا ہے ‘ جو قیامت کے دن ہوگا۔ اور اس کے پس منظر میں گویا ایک پوری داستان ہے ‘ جو ایک نئی شان سے سامنے آئی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 5:106.