Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ شَهَٰدَةُ بَيۡنِكُمۡ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ حِينَ ٱلۡوَصِيَّةِ ٱثۡنَانِ ذَوَا عَدۡلٖ مِّنكُمۡ أَوۡ ءَاخَرَانِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ إِنۡ أَنتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَأَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةُ ٱلۡمَوۡتِۚ تَحۡبِسُونَهُمَا مِنۢ بَعۡدِ ٱلصَّلَوٰةِ فَيُقۡسِمَانِ بِٱللَّهِ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِي بِهِۦ ثَمَنٗا وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰ وَلَا نَكۡتُمُ شَهَٰدَةَ ٱللَّهِ إِنَّآ إِذٗا لَّمِنَ ٱلۡأٓثِمِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحب عدل آدمی گواہ بنائے جائیں، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آ جائے تو غیر مسلموں ہی میں سے دو گواہ لے لیے جائں پھر اگر کوئی شک پڑ جائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو (مسجد میں) روک لیا جائے اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ “ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں، اور خواہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں) اور نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے یسا کیا تو گناہ گاروں میں شمار ہوں گے
English (Sahih International)
O you who have believed, testimony [should be taken] among you when death approaches one of you at the time of bequest - [that of] two just men from among you or two others from outside if you are traveling through the land and the disaster of death should strike you. Detain them after the prayer and let them both swear by Allah if you doubt [their testimony, saying], “We will not exchange our oath for a price, even if he should be a near relative, and we will not withhold the testimony of Allah. Indeed, we would then be of the sinful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 106 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَیْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ یعنی موت سے قبل وصیت کے وقت اپنے لوگوں میں سے دو گواہ مرد مقرر کرلو۔ واضح رہے کہ وصیت کل ترکے کے ایک تہائی حصے سے زیادہ کی نہیں ہوسکتی۔ اگر جائیداد زیادہ ہے تو اس کا ایک تہائی حصہ بھی خاصا زیادہ ہوسکتا ہے۔ ُ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃُ الْمَوْتِ ط یا دوسرے دو آدمی تمہارے غیروں میں سے اگر تم زمین میں سفر پر نکلے ہوئے ہو اور حالت سفر میں تمہیں موت کی مصیبت پیش آجائے۔یعنی حالت سفر میں اگر کسی کی موت کا وقت آپہنچے اور وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو ایسی صورت میں گواہان غیر قوم ‘ کسی دوسری بستی ‘ کسی دوسری برادری اور دوسرے قبیلے سے بھی مقرر کیے جاسکتے ہیں ‘ مگر عام حالات میں اپنی بستی ‘ اپنے خاندان میں رہتے ہوئے کوئی شخص انتقال کر رہا ہے تو اسے وصیّت کے وقت اپنے لوگوں ‘ رشتہ داروں اور قرابت داروں میں سے ہی دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنانا چاہیے۔تَحْبِسُوْنَہُمَا مِنْم بَعْدِ الصَّلٰوۃِ یعنی جب وصیت کے بارے میں متعلقہ لوگ پوچھیں اور اس میں کچھ شک کا احتمال ہو تو نماز کے بعد ان دونوں گواہوں کو مسجد میں روک لیا جائے۔فَیُقْسِمٰنِ باللّٰہِ اِنِ ارْتَبْتُمْ اگر تمہیں ان کے بارے میں کوئی شک ہو کہ کہیں یہ وصیّت کو بدل نہ دیں ‘ کہیں ان سے غلطی نہ ہوجائے تو تم ان سے قسم اٹھوا لو۔ وہ نماز کے بعد مسجد میں حلف کی بنیاد پر شہادت دیں ‘ اور اس طرح کہیں :لاَ نَشْتَرِیْ بِہٖ ثَمَنًا وَّلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی ہم اس کی کوئی قیمت وصول نہیں کریں گے ‘ اگرچہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو یعنی ہم اس شہادت سے نہ تو خود کوئی ناجائز فائدہ اٹھائیں گے ‘ نہ کسی کے حق میں کوئی ناانصافی کریں گے اور نہ ہی کسی رشتہ دار عزیز کو کوئی ناجائز فائدہ پہنچائیں گے۔وَلاَ نَکْتُمُ شَہَادَۃَ اللّٰہِ غور کریں گواہی اتنی عظیم شے ہے کہ اسے شَھَادَۃَ اللّٰہِ ‘ کہا گیا ہے ‘ یعنی اللہ کی گواہی ‘ اللہ کی طرف سے ‘ امانت۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 106 to 108.
ایک آدمی سفر کرتا ہے اور اس کے ساتھ مال ہے۔ راستہ میں اس کی موت کا وقت آجاتاہے۔ اب اگر وہ اپنے قریب دو مسلمان پائے تو ان کو اپنا مال دے دے اور اس کے بارے میں انھیں وصیت کر دے۔ اگر دو مسلمان بروقت نہ ملیں تو غیر مسلموں میں سے دو آدمی کے ساتھ یہی معاملہ کرے۔یہ دو صاحبان مال لاکر اس کو وارثوں کے حوالے کریں۔ اس وقت وارثوں کو اگر ان کے بیان کے بارے میں شبہ ہوجائے تو کسی نماز کے بعد مسجد میں ان گواہوں کو روک لیا جائے۔ یہ دونوں شخص عام مسلمانوں کے سامنے قسم کھائیں کہ انھوںنے مرنے والے کی طرف سے جو کچھ کہا صحیح کہا۔ اگر وارث اس کے حلفیہ بیان پر مطمئن نہ ہوں تو وارثوں میں سے دو آدمی اپنی بات کے حق میں قسم کھائیں اور پھر ان کی قسم کے مطابق فیصلہ کردیا جائے۔ وارثوں کو یہ حق دینا گویا ایک ایسا روک قائم کرنا ہے کہ کوئی خیانت کرنے والا خیانت کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
شریعت میں ایک مصلحت یہ ملحوظ رکھی گئی ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں ایسے احکام ديے جائیں جوآدمی کی وسیع تر زندگی کے لیے سبق ہوں۔ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے مال کا حق داروں تک پہنچنا ایک خاندانی اور معاشی معاملہ ہے۔ مگر اس کو دو اہم باتوں کی تربیت کا ذریعہ بنا دیاگیا۔ ایک یہ کہ لوگوں میں یہ مزاج بنے کہ معاملات میں وہ تعلق اور رشتہ داری کا لحاظ نہ کریں، بلکہ صرف حق کا لحاظ کریں۔ وہ یہ دیکھیں کہ حق کیا ہے، نہ یہ کہ بات کس کے موافق جارہی ہے اور کس کے خلاف۔ دوسرے یہ کہ ہر بات کو خدا کی گواہی سمجھنا۔ کوئی بات جو آدمی کے پاس ہے، وہ خدا کی امانت ہے۔ کیوں کہ آدمی نے اس کو خدا کی دی ہوئی آنکھ سے دیکھا اور خدا کے ديے ہوئے حافظہ میں اس کو محفوظ رکھا۔ اور اب خدا کی دی ہوئی زبان سے وہ اس کے متعلق اعلان کررہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ امانت میں خیانت ہوگی کہ آدمی بات کو اس طرح نہ بیان کرے جیسا کہ اس نے دیکھا اور جس طرح اس کے حافظہ نے اس کو محفوظ رکھا۔