Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُل لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ يَغۡفِرُواْ لِلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ أَيَّامَ ٱللَّهِ لِيَجۡزِيَ قَوۡمَۢا بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے نبیؐ، ایمان لانے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے برے دن آنے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے، اُن کی حرکتوں پر درگزر سے کام لیں تاکہ اللہ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے
English (Sahih International)
Say, [O Muhammad], to those who have believed that they [should] forgive those who expect not the days of Allah so that He may recompense a people for what they used to earn
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 14 { قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ اہل ِایمان سے کہہ دیجیے کہ وہ ذرا درگزر کریں ان لوگوں سے جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے“ اس آیت کے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سورت مکی دور کے تقریباً وسط میں نازل ہوئی ہے۔ گویا اس وقت حضور ﷺ کی دعوت کو شروع ہوئے پانچ چھ سال ہی ہوئے تھے ‘ یعنی ابھی اہل ِمکہ ّپر اتمامِ حجت نہیں ہوا تھا اور ابھی ان کے لیے مزید مہلت درکار تھی۔ چناچہ اہل ایمان کو تلقین کی جارہی ہے کہ وہ مشرکین کے مخالفانہ روییّسے دلبرداشتہ نہ ہوں۔ یہ جہالت میں ڈوبے ہوئے گمراہ لوگ ہیں ‘ انہیں ”ایام اللہ“ کے بارے میں کوئی کھٹکا اور اندیشہ ہے ہی نہیں۔ انہیں ادراک ہی نہیں کہ جس عذاب نے ماضی کی بڑی بڑی اقوام کو نیست و نابود کردیا تھا وہ ان پر بھی آسکتا ہے۔ لہٰذا ا بھی آپ لوگ ان سے درگزر کریں اور ان کے معاملے میں جلدی کرتے ہوئے یہ نہ سوچیں کہ نہ معلوم اللہ نے انہیں اس قدر ڈھیل کیوں دے رکھی ہے اور یہ کہ ان پر عذاب موعود آ کیوں نہیں جاتا ؟ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ابھی مزید مہلت دینا چاہتا ہے۔ { لِیَجْزِیَ قَوْمًام بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”تاکہ اللہ بدلہ دے ایک قوم کو ان کی اپنی کمائی کے مطابق۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 14 and 15.
جن لوگوں كو يه يقين نه هو كه ان كے اوپر خدائي فيصله كا دن آنے والا هے، وه ظلم كرنے ميں جري هوتے هيں۔ وه حق كے داعي كو هر ممكن طريقے سے ستاتے هيں۔ اس وقت داعي كے دل ميں انتقام كا جذبه پيدا هوتا هے۔ مگر داعي كو چاهيے كه وه آخر وقت تك مدعو سے درگز كرے۔ وه اپني توجه تمام تر دعوت پر لگائے رهے اور لوگوں كو بداعماليوں پر گرفت كے معامله كو خدا كے حواله كردے۔
داعي كي كوشش كي قدر وقيمت اس اعتبار سے متعين نهيں هوتي كه اس نے كتنے لوگوں كو حق كي طرف موڑا۔ اس كي كوشش كي قدر وقيمت خدا كے يهاں اس اعتبار سے متعين هوتي هے كه وه خود كتنا زياده حق پر قائم رها۔ حق كا داعي هونے كے تقاضوں كو خود اس نے كتنا زياده پورا كيا۔