Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا مِّنۡهُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کچھ اپنے پاس سے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں
English (Sahih International)
And He has subjected to you whatever is in the heavens and whatever is on the earth - all from Him. Indeed in that are signs for a people who give thought
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 13 { وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ } ”اور اس نے مسخر کردیا تمہارے لیے اپنی طرف سے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کچھ۔“ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ } ”یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیں۔“ اس مفہوم کی تمام آیات قرآنی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان میں بنی نوع انسان کے لیے دعوت تسخیر ہے کہ اللہ نے تو زمین و آسمان کی ہر ہرچیز کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے ‘ اب یہ تمہاری ہمت پر منحصر ہے کہ تم اپنے علم اور ٹیکنالوجی کے َبل بوتے پر کس کس مقام اور کون کون سی چیز تک رسائی حاصل کرتے ہو۔ نیز ایسی آیات کے الفاظ میں نسل انسانی کے مستقبل کی ترقی کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ مستقبل میں نہ معلوم اللہ تعالیٰ انسان کو ترقی کی کون کون سی منازل طے کرائے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 45:7.