Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَزُخۡرُفٗاۚ وَإِن كُلُّ ذَٰلِكَ لَمَّا مَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَٱلۡأٓخِرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلۡمُتَّقِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
سب چاندی اور سونے کے بنوا دیتے یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے، اور آخرت تیرے رب کے ہا ں صرف متقین کے لیے ہے
English (Sahih International)
And gold ornament. But all that is not but the enjoyment of worldly life. And the Hereafter with your Lord is for the righteous
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 35 { وَزُخْرُفًا } ”اور سونے کی بھی بنا دیتے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی ان چیزوں کی سرے سے کوئی وقعت ہے ہی نہیں۔ اس حوالے سے یہ حدیث نبوی ﷺ قبل ازیں متعدد بار دہرائی جا چکی ہے کہ اگر دنیا ومافیہا کی وقعت اللہ کی نگاہ میں مچھر کے َپر کے برابر بھی ہوتی تو دنیا میں وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی دولت اور زیب وزینت کی کوئی اہمیت ہے ہی نہیں ‘ اس لیے وہ تو اپنے سرکش اور نافرمان انسانوں کو بھی طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ { وَاِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ”اور یہ سب کچھ تو بس دنیا کی زندگی کا سازو سامان ہے۔“ کسی کا محل سونے کا ہو یا چاندی کا ‘ وہ اسے اپنے ساتھ قبر میں تو نہیں لے جاسکتا۔ دنیا کا سازو سامان جو کچھ بھی ہو ‘ جتنا کچھ بھی ہو یہیں اسی دنیا میں چھوڑ کر انسان آخرت کو سدھار جائے گا۔ { وَالْاٰخِرَۃُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ } ”اور آخرت کی کامیابی آپ کے رب کے نزدیک صرف اہل ِتقویٰ کے لیے ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 43:31.