Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقَالُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ عَلَىٰ رَجُلٖ مِّنَ ٱلۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيمٍ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کہتے ہیں، یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہ نازل کیا گیا؟
English (Sahih International)
And they said, “Why was this Qur’an not sent down upon a great man from [one of] the two cities
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 31 { وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ } ”اور کہنے لگے کہ کیوں نہیں اتارا گیا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم شخص پر ؟“ یہاں اصل مرکب اضافی ”رَجُلٍ عَظِیْمٍ“ ہے ‘ لیکن ان دو الفاظ کے درمیان ”مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ“ آجانے سے ”رجل“ کی صفت عظیم آخر پر چلی گئی ہے۔ قرآن کے اسلوب کے مطابق الفاظ کی یہ تقدیم و تاخیر مخصوص صوتی آہنگ کے باعث ہوتی ہے جس کی مثالیں قرآن میں جا بجا ملتی ہیں۔ مکہ اور طائف نزولِ قرآن کے زمانے میں پاکستان کے راولپنڈی اور اسلام آباد کی طرح جڑواں شہر twin cities سمجھے جاتے تھے۔ دونوں شہروں کے لوگوں کے آپس میں گہرے مراسم تھے۔ مکہ کے اکثر سرداروں کی طائف میں بڑی بڑی جائیدادیں تھیں۔ ان میں ولید بن مغیرہ کا ذکر روایات میں خاص طور پر آتا ہے کہ طائف میں اس کے بہت سے باغات اور مکانات تھے۔ مذکورہ جملہ دراصل اس پس منظر میں کسا گیا تھا کہ ان دونوں شہروں کی بڑی شخصیات کو چھوڑ کر اللہ کو رسول بنانے اور اس پر اپنی کتاب نازل کرنے کے لیے آخر قریش کا ایک یتیم ہی کیوں پسند آیا ہے !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 31 to 35.
پيغمبر اسلام جب مكه ميں ظاهر هوئے تو اس وقت وه لوگوں كو ايك معمولي انسان نظر آتے تھے۔ لوگوں نے كها كه خدا كو اگر اپنا كوئي نمائنده هماري هدايت كے لیے بھيجنا تھا تو اس نے عرب كي مركزي بستيوں (مكه اور طائف) كي كسي عظيم شخصيت كو اس كے ليے كيوں نهيں چنا۔ مگر يه ان كي نظر كي كوتاهي تھي۔ انسان صرف حال كو ديكھ پاتا هے جب كه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے كے لیے مستقبل كو ديكھنے والي نظر دركار تھي۔ چونكه لوگوں كو اس قسم كي دوربيں نظر حاصل نه تھي، وه پيغمبر اسلام كي عظمت كو سمجھنے ميں ناكام رهے۔
پيغمبر اسلام كو كم سمجھنے كي وجه يه تھي كه آپ كي زندگي ميں مادي چيزوں كي رونق لوگوں كو دكھائي نه ديتي تھي۔ مگر ان مادي چيزوں كي خداكي نظر ميں كوئي اهميت نهيں۔ حقيقت يه هے كه يه چيزيں خدا كي نظر ميں اتني غير اهم هيں كه وه چاهے تو لوگوں كو سونے چاندي كا ڈھير دے دے۔ مگر خدا نے ايسا اس ليے نهيں كيا كه لوگ انھيں چيزوں ميں اٹك كر ره جائيں گے۔ وه اس سے آگے بڑھ كر حقيقت كو نه پاسكيں گے۔