Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَنۡعَٰمَ لِتَرۡكَبُواْ مِنۡهَا وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ
English (Sahih International)
It is Allah who made for you the grazing animals upon which you ride, and some of them you eat
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 79 { اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْکَبُوْا مِنْہَا وَمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ } ”اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنا دیے تاکہ تم سواری کرو ان میں سے بعض پر اور ان میں سے بعض کا تم گوشت بھی کھاتے ہو۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 79 to 81.
انسان کو اپنی زندگی اور تمدن کےلیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔ مثلاً غذا، سواری، مختلف قسم کی صنعتیں، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا۔ یہ سب چیزیں موجودہ دنیا میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ خدا نے دنیا کی چیزوں کو اس طرح بنایا ہے وہ ہمیشہ انسان کے تابع رہیں اور انسان ان کو اپنی ضرورتوں کےلیے جس طرح چاہے استعمال کرسکے۔
یہ تمام چیزیں گویا خدا کی نشانیاں ہیں۔ وہ غیبی حقیقتوں کا مادی زبان میں اعلان کررہی ہیں۔ یہ اعلان اگرچہ بالواسطہ زبان میں ہے مگر انسان کا بھلا اسی میں ہے کہ وہ بالواسطہ زبان میں کہی ہوئی بات کو سمجھے۔ کیوں کہ خدا جب براہِ راست زبان میں کلام کرے تو وہ مہلتِ عمل کے ختم ہونے کا اعلان ہوتا ہے، نہ کہ عمل شروع کرنے کا۔