Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 40:79 Prev 40:77


Arabic

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلٗا مِّن قَبۡلِكَ مِنۡهُم مَّن قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّن لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَيۡكَۗ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأۡتِيَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ فَإِذَا جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ قُضِيَ بِٱلۡحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلۡمُبۡطِلُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے نبیؐ، تم سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آتا پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کر دیا گیا اور اُس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑ گئے


English (Sahih International)

And We have already sent messengers before you. Among them are those [whose stories] We have related to you, and among them are those [whose stories] We have not related to you. And it was not for any messenger to bring a sign [or verse] except by permission of Allah. So when the command of Allah comes, it will be concluded in truth, and the falsifiers will thereupon lose [all]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 78 { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ مِنْہُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْہُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ } ”اور ہم نے بہت سے رسول بھیجے آپ ﷺ سے پہلے ‘ ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا۔“ یعنی ان رسولوں میں سے بعض کے حالات آپ کو سنا دیے ہیں اور بعض کے نہیں سنائے۔ { وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ } ”اور کسی بھی رسول کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ وہ کوئی نشانی لے آتا مگر اللہ کے اذن سے۔“ کبھی کوئی رسول اپنی مرضی اور ذاتی کوشش سے اپنی قوم کو کوئی معجزہ نہیں دکھا سکا۔ یہ مضمون اکثر مکی سورتوں میں آیا ہے۔ گویا اس مضمون کی ڈور کا تسلسل زیر مطالعہ مکی سورتوں میں بھی نظر آ رہا ہے۔ { فَاِذَا جَآئَ اَمْرُ اللّٰہِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْمُبْطِلُوْنَ } ”پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو فیصلہ چکا دیا گیا حق کے ساتھ اور اس وقت خسارے میں پڑگئے جھٹلانے والے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

قرآن میں رسولوں کے احوال بطور تاریخ نہیںبیان ہوئے ہیں بلکہ بطور نصیحت بیان ہوئے ہیں۔ اس ليے قرآن میں رسولوں کے احوال محدود طورپر صرف اتنا ہی بتائے گئے ہیں جتنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نصیحت کےلیے ضروری تھے۔

رسول کا اصل کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا کا پیغام اس کے تمام ضروری آداب اور تقاضوں کے ساتھ لوگوں تک پہنچا دے۔ اس کے بعد جہاں تک معجزہ کا تعلق ہے وہ تمام تر اللہ کے اختیا رمیں ہے۔ وہ اپنی مصلحت کے تحت کبھی انھیں ظاہر کرتا ہے اور کبھی ظاہر نہیں کرتا۔

معجزے زیادہ تر ان قوموں کو دکھائے گئے ہیں جن کی سرکشی کی بنا پر خدا کا فیصلہ تھا کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔ اس ليے آخری طورپر اتمام حجت کےلیے انھیں معجزہ بھی دکھایا گیا۔ مگر پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا معاملہ یہ تھا کہ اس کا بڑا حصہ بالآخر مومن بننے والا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو امکانی طورپر یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ وہ تاریخ کے پہلے گروہ بنیں جس نے محض دلیل کی بنیاد پر حق کا اعتراف کیا اور اپنے آزاد ا رادہ سے اپنے آپ کو اس کے حوالے کردیا۔ اس ليے ان لوگوں کے مطالبہ کو نادانی پر محمول کرتے ہوئے انھیں خارق عادت معجزے نہیں دکھائے گئے۔


Connections

  • Previous: 40_77
  • Next: 40_79
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes