Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَيۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ ٱخۡتِلَٰفٗا كَثِيرٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اِس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی
English (Sahih International)
Then do they not reflect upon the Qur’an? If it had been from [any] other than Allah, they would have found within it much contradiction
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 82 اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ط یہ قرآن پڑھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں ‘ لیکن اس پر غور و فکر نہیں کرتے۔ نمازیں تو وہ پڑھتے تھے۔ اس وقت جو بھی منافق تھا اسے نماز تو پڑھنی پڑتی تھی ‘ ورنہ اس کو مسلمان نہ مانا جاتا۔ آج تو مسلمان مانے جانے کے لیے نماز ضروری نہیں ہے ‘ اس وقت تو ضروری تھی۔ بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تو پہلی صف میں ہوتا تھا اور جمعہ کے روز تو خاص طور پر خطبے سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان کرتا تھا کہ لوگو ان کی بات توجہ سے سنو ‘ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ گویا اپنی چودھراہٹ کے اظہار کے لیے یہ انداز اختیار کرتا۔ تو وہ نمازیں پڑھتے تھے ‘ قرآن سنتے تھے ‘ لیکن قرآن پر تدبر نہیں کرتے تھے۔ قرآن ان کے سروں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ یا ان کے ایک کان سے داخل ہو کر دوسرے کان سے نکل جاتا تھا۔ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَفًا کَثِیْرًا ۔اس پر غور کرو ‘ یہ بہت مربوط کلام ہے۔ اس کا پورا فلسفہ منطقی طور پر بہت مربوط ہے ‘ اس کے اندر کہیں کوئی تضاد نہیں ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 4:80.