Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدۡ أَطَاعَ ٱللَّهَۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيظٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی اور جو منہ موڑ گیا، تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے
English (Sahih International)
He who obeys the Messenger has obeyed Allah; but those who turn away - We have not sent you over them as a guardian
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 80 مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ ج۔یہ ٹکڑا بہت اہم ہے۔ اس لیے کہ یہ دو ٹوک انداز میں واضح کر رہا ہے کہ رسول ﷺ کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے یہ حدیث ملاحظہ کیجیے۔ حضرت ابوہریرہ رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ ‘ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ ‘ وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ ‘ وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ 1جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“رسول اللہ ﷺ کی ساری جدوجہد جماعتی نظم کے تحت ہو رہی تھی۔ جہاد و قتال کے لیے فوج تیارہوتی تو اس میں اوپر سے نیچے تک سمع وطاعت کی ایک زنجیر بنتی چلی جاتی۔ رسول اللہ ﷺ کمانڈر انچیف تھے ‘ آپ ﷺ لشکر کے میمنہ ‘ میسرہ ‘ قلب اور عقب وغیرہ پر ‘ ہراول دستے پر الگ الگ کمانڈر مقرر فرماتے۔ ان امراء کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی ‘ اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو ان پر داروغہ مقرر نہیں کیا۔ اپنے طرز عمل کے یہ خود ذمہ دار اور جواب دہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر یہ اس کے محاسبے کا خود سامنا کرلیں گے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 80 to 83.
خدا کے داعی کو ماننا ’’اپنے جیسے انسان‘‘ کو ماننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی خدا کو مانتا ہے مگر وہ خدا کے داعی کو ماننے پر ر اضی نہیں ہوتا۔ مگرآدمی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ خدا کے داعی کو پہچانے اور اس كے ساتھ اپنے کو کھڑا کرے۔ داعی کے معاملہ کو جب آدمی خدا کا معاملہ نہ سمجھے تو وہ اس کے بارے میں سنجیدہ بھی نہیں ہوتا۔ سامنے وہ رسمی طورپر ہاں کر دیتا ہے مگر جب الگ ہوتا ہے تو اپنی سابقہ روش پر چلنے لگتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن کا پھیلانا سراسر غیر ذمہ دارانہ فعل ہو۔ جو لوگ خدا کے داعی کے ساتھ اس قسم کا بے پروائی کا سلوک کریں وہ خدا کے یہاں یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم نہیں جانتے تھے۔ آدمی اگر ٹھہر کر سوچے تو داعی کی صداقت کو جاننے کے لیے وہ کلام ہی کافی ہے جو خدا نے اس کی زبان پر جاری کیا ہے۔
قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ اس کا کوئی بیان کسی بھی مسلمہ صداقت کے خلاف نہیں۔ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی فطرت کے خلاف ہو۔ اس میں کوئی ایسا بیان نہیں جو سابق آسمانی کتابوں کے ذریعہ جانی ہوئی کسی حقیقت سے ٹکراتا ہو۔ اس میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جو تجربی علوم سے دریافت شدہ کسی واقعہ کے غیر مطابق ہو۔ حقائقِ واقعی سے یہ مکمل مطابقت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے۔ تاہم کسی بھی سچائی کا سچائی نظر آنا اس پر موقوف ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ قرآن کا اختلاف کثیر سے خالی ہونا اس شخص کو دکھائی دے گا جو قرآن میں ’’تدبر‘‘ کرے۔ جو شخص تدبر کرنا نہ چاہے اس کے لیے بے معنی اعتراضات نکالنے کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوا ہے جب تک قیامت آکر موجودہ امتحانی حالات کا خاتمہ نہ کردے۔
اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کے افراد اتنے خود شناس ہوں کہ وہ دوسرے کے مقابلے میں اپنی نااہلی کو جان لیں۔ وہ کسی معاملہ کو اہل تر شخص کے حوالے کرکے اس کی رہنمائی پر راضی ہوجائیں۔ یہ خود شناسی ہی واحد چیز ہے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو شیطان کے پیچھے چل پڑنے سے بچاتی ہے۔ آدمی اگر اپنے آپ کو نہ جانے تو وہ اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی نازک معاملات میں کود پڑتا ہے اور پھر خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں بولنے سے زیادہ چپ رہنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شیطان کی مدد کرنا ہے کہ آدمی جو بات سنے اس کو دوسروں کے سامنے دہرانے لگے۔