Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَكَيۡفَ إِذَآ أَصَٰبَتۡهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّآ إِحۡسَٰنٗا وَتَوۡفِيقًا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب اِن کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہو جائے
English (Sahih International)
So how [will it be] when disaster strikes them because of what their hands have put forth and then they come to you swearing by Allah, “We intended nothing but good conduct and accommodation
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 62 فَکَیْفَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ وہ چیختے چلاتے آئے کہ عمر نے ہمارا آدمی مار ڈالا ‘ ہمیں اس کا قصاص دلایا جائے۔ثُمَّ جَآءُ وْکَ یَحْلِفُوْنَق باللّٰہِ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّآ اِحْسَانًا وَّتَوْفِیْقًا ہم تو عمر رض کے پاس محض اس لیے گئے تھے کہ کوئی مصالحت اور راضی نامہ ہوجائے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 4:58.