Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 4:59 Prev 4:57


Arabic

۞إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا وَإِذَا حَكَمۡتُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُواْ بِٱلۡعَدۡلِۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعَۢا بَصِيرٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

مسلمانو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے


English (Sahih International)

Indeed, Allah commands you to render trusts to whom they are due and when you judge between people to judge with justice. Excellent is that which Allah instructs you. Indeed, Allah is ever Hearing and Seeing


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

یہ دو آیات 58 ‘ 59 قرآن مجید کی نہایت اہم آیات ہیں ‘ جن میں اسلام کا سارا سیاسی ‘ قانونی اور دستوری نظام موجود ہے۔ فرمایا :آیت 58 اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ الآی اَہْلِہَالا وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بالْعَدْلِ ط پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ جو بھی سیاسی نظام بناتے ہیں اس میں مناصب ہوتے ہیں ‘ جن کی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اور اختیارات بھی۔ لہٰذا ان مناصب کے انتخاب میں آپ کی رائے کی حیثیت امانت کی ہے۔ آپ اپنی رائے دیکھ بھال کردیں کہ کون اس کا اہل ہے۔ اگر آپ نے ذات برادری ‘ رشتہ داری وغیرہ کی بنا پر یا مفادات کے لالچ میں یا کسی کی دھونس کی وجہ سے کسی کے حق میں رائے دی تو یہ صریح خیانت ہے۔ حقِ رائے دہی ایک امانت ہے اور اس امانت کا استعمال صحیح صحیح ہونا چاہیے۔ عام معنی میں بھی امانت کی حفاظت ضروری ہے اور جو بھی امانت کسی نے رکھوائی ہے اسے واپس لوٹانا آپ کی شرعی ذمہ داری ہے۔ لیکن یہاں یہ بات اجتماعی زندگی کے اہم اصولوں کی حیثیت سے آرہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ گویا پہلی ہدایت سیاسی نظام سے متعلق ہے کہ امیر المؤمنین یا سربراہ ریاست کا انتخاب اہلیت کی بنیاد پر ہوگا ‘ جبکہ دوسری ہدایت عدلیہ Judiciary کے استحکام کے بارے میں ہے کہ وہاں بلا امتیاز ہر ایک کو عدل و انصاف میسرآئے۔ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعًام بَصِیْرًا اگلی آیت میں تیسری ہدایت مقننہ Legislature کے بارے میں آرہی ہے کہ اسلامی ریاست کی دستوری بنیاد کیا ہوگی۔ جدید ریاست کے تین ستون انتظامیہ Executive ‘ عدلیہ Judiciary اور مقننہ Legislature گنے جاتے ہیں۔ پہلی آیت میں انتظامیہ اور عدلیہ کے ذکر کے بعد اب دوسری آیت میں مقننہ کا ذکر ہے کہ قانون سازی کے اصول کیا ہوں گے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 58 to 63.

ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔

مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔


Connections

  • Previous: 4_57
  • Next: 4_59
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes