Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 4:147 Prev 4:145


Arabic

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ وَأَصۡلَحُواْ وَٱعۡتَصَمُواْ بِٱللَّهِ وَأَخۡلَصُواْ دِينَهُمۡ لِلَّهِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ مَعَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَجۡرًا عَظِيمٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

البتہ جو اُن میں سے تائب ہو جائیں او ر اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر دیں، ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں اور اللہ مومنوں کو ضرور اجر عظیم عطا فرمائے گا


English (Sahih International)

Except for those who repent, correct themselves, hold fast to Allah, and are sincere in their religion for Allah, for those will be with the believers. And Allah is going to give the believers a great reward


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

فرمایا :آیت 146 اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا باللّٰہِ اللہ کا دامن مضبوطی سے تھام لیں ‘ ایمان کے ساتھ یکسو ہوجائیں۔ کُوْنُوْ رَبَّانِیِّیْن کے مصداق اللہ والے بن جائیں۔ شیطان سے محبت کی پینگیں نہ بڑھائیں ‘ شیطان کے ایجنٹوں سے دوستیاں نہ کریں ‘ اور اپنے آپ کو دین اسلام کے ساتھ وابستہ کرلیں کہ ہرچہ بادا باد ‘ اب تو ہم اسلام کی اس کشتی پر سوار ہوگئے ہیں ‘ اگر یہ تیرتی ہے تو ہم تیریں گے ‘ اور اگر خدانخواستہ اس کے مقدر میں کوئی حادثہ ہے تو ہم بھی اس حادثے میں شامل ہوں گے۔وَاَخْلَصُوْا دِیْنَہُمْ لِلّٰہِ یہ نہ ہو کہ زندگی کے کچھ حصے میں اطاعت اللہ کی ہو رہی ہے ‘ کچھ حصے میں کسی اور کی ہورہی ہے کہ کیا کریں جی ! یہ معاملہ تو رواج کا ہے ‘ برادری کو چھوڑ تو نہیں سکتے نا ! معلوم ہوا آپ نے اپنی اطاعت کے علیحدہ علیحدہ حصے کرلیے ہیں اور پھر ان میں انتخاب کرتے ہیں کہ یہ حصّہ تو برادری کی اطاعت میں جائے گا اور یہ حصہ اللہ کی اطاعت کے لیے ہوگا۔ اطاعت جب تک کل کی کل اللہ کے لیے نہ ہو ‘ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔ سورة البقرۃ آیت 193 میں ہم نے پڑھا تھا : وَقٰتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ط یہاں پر دین پورے کا پورا اللہ کے لیے ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی سطح پر دین اللہ کے لیے ہوجائے ‘ یعنی اسلامی ریاست قائم ہوجائے ‘ پورا اسلامی نظام قائم ہوجائے ‘ شریعت اسلامی کا نفاذ عمل میں آجائے۔ اور اگر یہ نہیں ہے تو کم از کم ایک شخص انفرادی سطح پر تو اپنی اطاعت اللہ کے لیے خالص کرلے۔ یہ گویا انفرادی توحید عملی ہے۔ فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ط وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا یعنی ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے ‘ سچی توبہ کرنے کے بعد ان کو معافی مل سکتی ہے۔ ابھی ان کے لیے point of no return نہیں آیا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 4:142.


Connections

  • Previous: 4_145
  • Next: 4_147
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes