Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 4:143 Prev 4:141


Arabic

إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَهُوَ خَٰدِعُهُمۡ وَإِذَا قَامُوٓاْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ قَامُواْ كُسَالَىٰ يُرَآءُونَ ٱلنَّاسَ وَلَا يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ إِلَّا قَلِيلٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ در حقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں


English (Sahih International)

Indeed, the hypocrites [think to] deceive Allah, but He is deceiving them. And when they stand for prayer, they stand lazily, showing [themselves to] the people and not remembering Allah except a little


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 142 اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ یہ مضمون سورة البقرہ کے دوسرے رکوع میں بھی آچکا ہے۔ مُخادَعۃ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ اس باب میں کسی کے مقابلے میں کوشش کے معنی شامل ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں دو فریقوں میں مقابلہ ہوتا ہے اور پتا نہیں ہوتا کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔ لہٰذا اس کا صحیح ترجمہ ہوگا کہ وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ کی طرف سے فرمایا گیا :وَہُوَ خَادِعُہُمْ ج۔خَادِع ثلاثی مجرد سے اسم فاعل ہے اور یہ نہایت زور دار تاکید کے لیے آتا ہے ‘ اس لیے ترجمہ میں تاکیدی الفاظ آئیں گے۔ یہاں منافقین کے لیے دھوکہ والا پہلو یہ ہے کہ اللہ نے ان کو جو ڈھیل دی ہوئی ہے اس سے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں ‘ ہمارے اوپرا بھی تک کوئی آنچ نہیں آئی ‘ کوئی پکڑ نہیں ہوئی ‘ کوئی گرفت نہیں ہوئی ‘ ہم دونوں طرف سے بچے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے وہ اپنی اس ڈھیل کی وجہ سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اور درحقیقت یہی دھوکہ ہے جو اللہ کی طرف سے ان کو دیا جا رہا ہے۔ یعنی اللہ نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ وَاِذَا قَامُوْآ اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی لا یہ منافقین جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ طبیعت میں بشاشت نہیں ہے ‘ آمادگی نہیں ہے۔ لیکن چونکہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا بھی ضروری ہے لہٰذا مجبوراً کھڑے ہوجاتے ہیں۔ قَام فعل ہے اور اس کے معنی ہیں کھڑے ہونا ‘ جبکہ قاءم اس سے اسم فاعل ہے۔ مختلف زبانوں میں عام طور پر verb کے بعد prepositions کی تبدیلی سے معنی اور مفہوم بدل جاتے ہیں۔ مثلاً انگریزی میں to give ایک خاص مصدر ہے۔ اگر to give up ہو تو معنی یکسر بدل جائیں گے۔ پھر اگر یہ to give in ہو تو بالکل ہی الٹی بات ہوجائے گی۔ اسی طرح عربی میں بھی حروف جار کے تبدیل ہونے سے معانی بدل جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر قام عَلٰی ہو ‘ جیسے الرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ میں ہے تو اس کے معنی ہوں گے حاکم ہونا ‘ سربراہ ہونا ‘ کسی کے حکم کا نافذ ہونا۔ لیکن اگر قام اِلٰی ہو جیسے آیت زیر نظر میں ہے تو اس کا مطلب ہوگا کسی شے کے لیے کھڑے ہونا ‘ کسی شے کی طرف کھڑے ہونا ‘ کوئی کام کرنے کے لیے اٹھنا ‘ کوئی کام کرنے کا ارادہ کرنا۔ اس سے پہلے ہم قامَ ’ بِ ‘ کے ساتھ بھی پڑھ چکے ہیں : قَوّٰمَیْنَ بِا لْقِسْطِ اور قاءِمًا بالْقِسْطِ۔ یہاں اس کے معنی ہیں کسی شے کو قائم کرنا۔ تو آپ نے ملاحظہ کیا کہ حروف جار prepositions کی تبدیلی سے کسی فعل کے اندر کس طرح اضافی معانی پیدا ہوجاتے ہیں۔یُرَآءُ وْنَ النَّاسَ وَلاَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ الاَّ قَلِیْلاً یعنی ذکر الٰہی جو نماز کا اصل مقصد ہے وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ طٰہٰ وہ انہیں نصیب نہیں ہوتا۔ مگر ممکن ہے اس بےدھیانی میں کسی وقت کوئی آیت بجلی کے کڑکے کی طرح کڑک کر ان کے شعور میں کچھ نہ کچھ اثرات پیدا کر دے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 142 to 147.

جو لوگ اپنے کو اللہ کے حوالے كيے ہوئے نہ ہوں وہ اپنے کو اپنے دنیوی مفاد کے حوالے كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنیوی مفاد جس سے وابستہ ہو وہ اسی کے ساتھ ہوجاتے ہیں، خواہ وہ دین دار ہو یا بے دین۔ ایسے لوگ زبان سے اسلام کے الفاظ بولتے ہیں اور بعض اسلامی اعمال بھی ظاہری حد تک ادا کرتےرہتے ہیں، مگر ان کا عمل اللہ کے ليے نہیں ہوتا۔ بلکہ لوگوں کی نظر میں مسلمان بنے رہنے کے ليے ہوتا ہے۔ ان کا اصلی دین موقع پرستی ہوتا ہے مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا خدا کو دھوکا دے رہے ہیں۔ وہ خدا والے نہ ہو کر اپنے کو خدا والا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسلام کو سچا دین جانتے ہیں، اس کے باوجود اپنے مفاد ات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے ليے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے ليے۔ ایسے لوگ اللہ کی مدد سےمحروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی مدد کا مستحق بننے کے ليے اللہ کے راستہ پر جمنا ضروری ہے۔ اور یہی چیز ان کے یہاں موجود نہیں ہوتی— حق کو ماننے والے اور حق کا انکار کرنے والے جب الگ الگ ہوچکے ہوں تو ایسی حالت میں حق کا انکار کرنے والوں کا ساتھ دینا اپنے خلاف خدا کی کھلی حجت قائم کرنا ہے۔ یہ کسی کے قابلِ سزا ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔

اس قسم کے لوگ اپنے دکھاوے کے اعمال کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اسلام کی ظاہری نمائش کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور تھے، اس ليے ان کا انجام بھی ان کی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ تاہم کسی کی گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو ہر طرف سے موڑ کر اللہ کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کردے گا۔


Connections

  • Previous: 4_141
  • Next: 4_143
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes