Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَن تَسۡتَطِيعُوٓاْ أَن تَعۡدِلُواْ بَيۡنَ ٱلنِّسَآءِ وَلَوۡ حَرَصۡتُمۡۖ فَلَا تَمِيلُواْ كُلَّ ٱلۡمَيۡلِ فَتَذَرُوهَا كَٱلۡمُعَلَّقَةِۚ وَإِن تُصۡلِحُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے لہٰذا (قانون الٰہی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اِس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
English (Sahih International)
And you will never be able to be equal [in feeling] between wives, even if you should strive [to do so]. So do not incline completely [toward one] and leave another hanging. And if you amend [your affairs] and fear Allah - then indeed, Allah is ever Forgiving and Merciful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 129 وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ سورۃ کے آغاز آیت 3 میں فرمایا گیا تھا : فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم اپنی بیویوں میں اگر ایک سے زائد ہیں عدل نہیں کرسکو گے تو پھر ایک پر ہی اکتفا کرو ‘ دوسری شادی مت کرو۔ اگر تمہیں کلی طور پر اطمینان ہے ‘ اپنے اوپر اعتماد ہے کہ تم عدل کرسکتے ہو تب دوسری شادی کرو ‘ ورنہ نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ چیزیں تو گنتی اور ناپ تول کی ہوتی ہیں ‘ ان میں تو عدل کرنا ممکن ہے ‘ لیکن جو قلبی میلان ہے یہ تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی تمام ازواج کے لیے ہرچیز گِن گِن کر طے کی ہوئی تھی۔ شب بسری کے لیے سب کی باریاں مقرر تھیں۔ دن میں بھی آپ ﷺ ہر گھر میں چکر لگاتے تھے۔ عصر اور مغرب کے درمیان تھوڑی تھوڑی دیر ہر زوجہ محترمہ کے پاس ٹھہرتے تھے۔ اگر کہیں زیادہ دیر ہوجاتی تو گویا کھلبلی مچ جاتی تھی کہ آج وہاں زیادہ دیرکیوں ٹھہر گئے ؟ یہ چیزیں انسانی معاشرے میں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کا آپس کا معاملہ بہت اچھا تھا ‘ لیکن سوکناپے کے اثرات کچھ نہ کچھ تو ہوتے ہیں ‘ یہ عورت کی فطرت ہے ‘ جو اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ تو اس لیے فرمایا کہ مکمل انصاف کرنا تمہارے بس میں نہیں۔ اس سے مراد دراصل قلبی میلان ہے۔ ایک حدیث میں بھی اس کی وضاحت ملتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ میں نے ظاہری چیزوں میں پورا پورا عدل کیا ہے ‘ باقی جہاں تک میرے دل کے میلان کا تعلق ہے تو مجھے امید ہے کہ اس بارے میں تو مجھ سے مواخذہ نہیں کرے گا۔ اسی لیے یہاں فرمایا گیا کہ تم چاہو بھی تو عدل نہیں کرسکتے۔فَلاَ تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ط۔دوسری بیوی اس طرح معلّق ہو کر نہ رہ جائے کہ اب وہ نہ شوہر والی ہے اور نہ آزاد ہے۔ اس سے خاوند کا گویا کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا اب اگلی آیت میں طلاق کے معاملے میں ایک اہم نکتہ بیان ہو رہا ہے۔ طلاق یقیناً ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے ‘ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی الطَّلَاقُ 1 حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ‘ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اس کو بسا اوقات کفر تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ لڑائیاں ہو رہی ہیں ‘ مقدمات چل رہے ہیں ‘ مزاجوں میں موافقت نہیں ہے ‘ ایک دوسرے کو کوس رہے ہیں ‘ دن رات کا جھگڑا ہے ‘ لیکن طلاق نہیں دینی۔ یہ طرز عمل نہایت احمقانہ ہے اور شریعت کی منشاء کے بالکل خلاف بھی۔ اس آیت میں آپ دیکھیں گے کہ ایک طرح سے طلاق کی ترغیب دی گئی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 4:127.