Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَيَسۡتَفۡتُونَكَ فِي ٱلنِّسَآءِۖ قُلِ ٱللَّهُ يُفۡتِيكُمۡ فِيهِنَّ وَمَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ فِي يَتَٰمَى ٱلنِّسَآءِ ٱلَّـٰتِي لَا تُؤۡتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرۡغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَٱلۡمُسۡتَضۡعَفِينَ مِنَ ٱلۡوِلۡدَٰنِ وَأَن تَقُومُواْ لِلۡيَتَٰمَىٰ بِٱلۡقِسۡطِۚ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِهِۦ عَلِيمٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
لو گ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ تمہیں اُن کے معاملہ میں فتویٰ دیتا ہے، اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جا رہے ہیں یعنی وہ احکام جو اُن یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو (یا لالچ کی بنا پر تم خود ان سے نکاح کر لینا چاہتے ہو)، او ر وہ احکام جو اُن بچوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو، اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی
English (Sahih International)
And they request from you, [O Muhammad], a [legal] ruling concerning women. Say, “Allah gives you a ruling about them and [about] what has been recited to you in the Book concerning the orphan girls to whom you do not give what is decreed for them - and [yet] you desire to marry them - and concerning the oppressed among children and that you maintain for orphans [their rights] in justice.” And whatever you do of good - indeed, Allah is ever Knowing of it
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اب جو آیات آرہی ہیں ان میں خطاب مسلمانوں ہی سے ہے لیکن ان کی حیثیت استدراک کی ہے اور ان کا تعلق اس سورة کی ابتدائی آیات کے ساتھ ہے۔ سورة النساء کے آغاز میں خواتین کے مسائل کے بارے میں کچھ احکام نازل ہوئے تھے ‘ جن میں یتیم بچیوں سے نکاح کے بارے میں بھی معاملات زیر بحث آئے تھے اور کچھ طلاق وغیرہ کے مسائل تھے۔ اس میں کچھ نکات لوگوں کے لیے وضاحت طلب تھے ‘ لہٰذا ایسے نکات کے بارے میں مسلمانوں کی طرف سے کچھ سوالات کیے گئے اور حضور ﷺ سے کچھ وضاحتیں طلب کی گئیں۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحتیں نازل کی ہیں اور اس سوال کا حوالہ دے کر بات شروع کی گئی ہے جس کا جواب دیا جانا مقصود ہے۔آیت 127 وَیَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآءِ ط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْہِنَّلا وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآءِ یہ اسی سورة کی آیت 3 کی طرف اشارہ ہے۔ آیت زیر نظر کے ساتھ مل کر اس آیت کی تشریح بھی بالکل واضح ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ وہاں جو فرمایا گیا تھا وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فِی الْْیَتٰمٰی تو اس سے اصل مراد یَتٰمَی النِّسَآءِتھا۔ یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں سے شادی کرو گے تو ان کے ساتھ انصاف نہیں کرسکو گے اس لیے کہ ان کی طرف سے کوئی نہیں جو ان کے حقوق کا پاسدار ہو اور تم سے باز پرس کرسکے تو پھر ان سے شادی مت کرو ‘ بلکہ دوسری عورتوں سے شادی کرلو۔ اگر ایک سے زائد نکاح کرنا چاہتے ہو تو اپنی پسند کی دوسری عورتوں سے ‘ دو دو ‘ تین تین یا چار چار سے کرلو فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ج الّٰتِیْ لاَ تُؤْتُوْنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ یتیم سمجھ کر مہر ادا کیے بغیر ان سے نکاح کرنے کے خواہش مند رہتے ہو۔وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ لا وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰی بالْقِسْطِ ط وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیْمًا وہ تمہاری نیتوں کو جانتا ہے۔ اس نے شریعت کے احکام نازل کردیے ہیں ‘ بنیادی ہدایات تمہیں دے دی گئی ہیں۔ اب اضافی چیز تو بس یہی ہے کہ تمہاری نیّت صاف ہونی چاہیے۔ کیونکہ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ط البقرۃ : 220 اللہ جانتا ہے کہ کون حقیقت میں شرارتی ہے اور کس کی نیت صحیح ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 127 to 130.
پوچھنے والوں نے بعض معاشرتی امور کی بابت شرعی حکم دریافت کیا تھا۔ اس سلسلے میں حکم بتاتے ہوئے خیر وانصاف اور صلاح وتقویٰ پر زور دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قانون اسی وقت اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے جب کہ اس کو عمل میں لانے والا آدمی اللہ سے ڈرتا ہو اور فی الواقع انصاف کا طالب ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قانون کی ظاہری تعمیل کے باوجود حقیقی بہتری پیدا نہیں ہوسکتی۔ معاشرہ کی واقعی اصلاح صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ برائی کرنے والا برائی سے اس ليے ڈرے کہ اصل معاملہ خدا سے ہے اور برائی کرنے کے بعد میں کسی طرح اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح بھلائی کرنے والا یہ سوچے کہ لوگوں کی طرف سے خواہ مجھے اس کا کوئی صلہ نہ ملے مگر اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ ضرور مجھ کو اس کا انعام دے گا۔ جہنم کا اندیشہ آدمی کو ظلم سے روکتا ہے اور جنت کی امید اس نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کردیتی ہے جو حق پرستانہ زندگی کے نتیجہ میں لازماً سامنے آتا ہے۔
میاں بیوی یادو آدمیوں میں اختلاف کی وجہ ہمیشہ حرص ہوتی ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق کا لحاظ كيے بغیر صرف اپنے مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ ذہنیت ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطمئن بنا دیتی ہے۔ صحیح مزاج یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی معذوری کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی رعایت کرتے ہوئے کسی باہمی تصفیہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اللہ کا مطالبہ جس طرح یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی رعایت کرے، اسی طرح اللہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ آخری حد تک رعایت فرماتا ہے۔ اللہ کے یہاں آدمی کی پکڑ ا س کی فطری کمزوریوں پر نہیں ہے بلکہ اس کی اس سرکشی پر ہے جو وہ جان بوجھ کر کرتا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے اور دل میں اصلاح کا جذبہ رکھے تو وہ نیت کی درستگی کے ساتھ جو کچھ کرے گا اس کے لیے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی قرار پائے گا۔ اسی کے ساتھ آدمی کو کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑنا چاہیے کہ وہ دوسرے کا کام بنانے والا ہے۔ ہر ایک کا کام بنانے والا صرف اللہ ہے، خواہ وہ بظاہر ایک طرح کے حالات میں ہو یا دوسری طرح کے حالات میں۔