Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَإِذَا قَضَيۡتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمۡۚ فَإِذَا ٱطۡمَأۡنَنتُمۡ فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَۚ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ كِتَٰبٗا مَّوۡقُوتٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر جب نماز سے فارغ ہو جاؤ تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو اور جب اطمینان نصیب ہو جائے تو پوری نماز پڑھو نما ز در حقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے
English (Sahih International)
And when you have completed the prayer, remember Allah standing, sitting, or [lying] on your sides. But when you become secure, re-establish [regular] prayer. Indeed, prayer has been decreed upon the believers a decree of specified times
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 103 فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ ج چلتے پھر تے ‘ اٹھتے بیٹھتے ‘ سواری پر ‘ پیدل چلتے ہوئے ہر حالت میں اللہ کا ذکر جاری رہنا چاہیے۔ یہ ذکر کثیر صرف نماز کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر وقت اور ہر حالت میں اس کا اہتمام رہنا چاہیے۔ جیسے سورة الجمعہ میں حکم دیا گیا ہے : فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو ‘ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔ چناچہ نماز کے بعد بھی اور کاروبار زندگی کی مصروفیات کے دوران بھی ذکر کثیر جاری رکھو۔ ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو ‘ اس کے ذکر میں مشغول رہو۔ ادعیہ ماثورہ اور اوراد مسنونہ کا اہتمام کرو ‘ اپنی زبانوں ‘ ذہنوں اور دلوں کو اس کے ذکر سے تروتازہ رکھو۔فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ج یعنی نماز کی یہ شکل صلوٰۃ الخوف صرف اضطراری حالت میں ہوگی ‘ مگر جب خوف جاتا رہے اور حالت امن بحال ہوجائے تو نماز کو شریعت کے احکام اور آداب کے عین مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا یعنی نماز کی فرضیّت باقاعدہ اس کے اوقات کے ساتھ ہے۔ نماز کے اوقات کے ضمن میں ایک حدیث میں تفصیل مذکور ہے کہ حضرت جبرائیل رح نے دو دن رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھائی۔ ایک دن پانچوں نمازیں اوّل وقت میں جبکہ دوسرے دن تمام نمازیں آخر وقت میں پڑھائیں اور بتایا کہ نمازوں کے اوقات ان حدود کے مابین ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 4:101.