Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَقۡصُرُواْ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ إِنۡ خِفۡتُمۡ أَن يَفۡتِنَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْۚ إِنَّ ٱلۡكَٰفِرِينَ كَانُواْ لَكُمۡ عَدُوّٗا مُّبِينٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر نماز میں اختصار کر دو (خصوصاً) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے کیونکہ وہ کھلم کھلا تمہاری دشمنی پر تلے ہوئے ہیں
English (Sahih International)
And when you travel throughout the land, there is no blame upon you for shortening the prayer, [especially] if you fear that those who disbelieve may disrupt [or attack] you. Indeed, the disbelievers are ever to you a clear enemy
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اس رکوع میں پھر شریعت کے کچھ احکام اور عبادات کی کچھ تفاصیل ہیں۔ گویا خطاب کا رخ اب پھر اہل ایمان کی طرف ہے۔آیت 101 وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِق اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط اِنَّ الْکٰفِرِیْنَ کَانُوْا لَکُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا یہ تو ہے حالت سفر میں قصر صلوٰۃکاحکم۔ لیکن جنگ کی حالت میں قصر یعنی صلوٰۃ الخوف کا طریقہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔ حالت جنگ میں جب پورے لشکر کا ایک ساتھ نماز پڑھنا ممکن نہ رہے تو گروہوں کی شکل میں نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن ایسی صورت میں جب حضور ﷺ خود بھی لشکر میں موجود ہوتے تو کوئی ایک گروہ ہی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ سکتا تھا ‘ جبکہ دوسرے گروہ کے لوگوں کو لازماً محرومی کا احساس ہوتا۔ لہٰذا اس مسئلے کے حل کے لیے صلوٰۃ الخوف ادا کرنے کی بہت عمدہ تدبیر بتائی گئی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 101 to 104.
دین میں جتنے اعمال بتائے گئے خواہ وہ نماز اور زکوۃ کی قسم سے ہوں یا تبلیغ اور جہاد کی قسم سے، سب کا آخری مقصود اللہ کی یاد ہے۔ تمام اعمال کا اصل مدعا یہ ہے کہ ایسا انسان تیار ہو جو اس طرح جئے کہ خدا اس کی یادوں میں بسا ہوا ہو۔ زندگی کا ہر موڑ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے۔ اندیشہ کا موقع اس کو اللہ سے ڈرائے، امید کا موقع اس کے اندر اللہ کا شوق پیدا کرے۔ اس کا بھروسہ اللہ پر ہو۔ اس کی توجهات اللہ کی طرف لگی ہوئی ہوں۔ جو چیز ملے اس کو وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی جانے اور جو چیز نہ ملے اس کو اللہ کے حکم کا نتیجہ سمجھے۔ اس کی پوری اندرونی ہستی اللہ کے جلال وجمال میں کھوئی ہوئی ہو۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ جنگ کے نازک ترین موقع پر بھی کسی نہ کسی شکل میں نماز ادا کرنے کا حکم ہوا تاکہ موت کے کنارے کھڑے ہو کر انسان کو یاد دلایا جائے کہ وہ اصل چیز کیا ہے جو بندے کو اس دنیا سے لے کر اپنے رب کے پاس جانا چاہیے۔
اہل ایمان کا بھروسہ اگرچہ تمام تر اللہ پر ہوتا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ حکم ہے کہ دشمنوں سے اپنے بچاؤ کا ظاہری سامان مہیا رکھو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مدد ظاہری سامان کے اندر ہو کر ہی آتی ہے۔ اہل ایمان نے اگر اپنے بچاؤ کا ممکن انتظام نہ کیا ہو تو گویا انھوںنے وہ شکل ہی کھڑی نہیں کی جس کے ڈھانچے میں اللہ کی مدد اتر کر ان کی طرف آئے۔ مومن کو دنیا میں جو مصیبتیں پیش آتی ہیں وہ اللہ کے منصوبہ کی قیمت ہیں کہ وہ آزمائشی حالات پیدا کرکے دیکھے کہ کون سچائی پر قائم رہنے والا ہے اور کون دوسروں کو ناحق ستانے والا۔
اسلام اور غیر اسلام کی کش مکش میں کبھی اہل اسلام کو شکست اور نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت کچھ لوگ پست ہمت ہونے لگتے ہیں۔ مگر ایسے حادثات میں بھی اللہ کی مصلحت شامل رہتی ہے۔ وہ اس لیے پیش آتے ہیں کہ بندہ کے اندر مزید انابت اور توجہ ابھرے اور اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی مزید عنایتوں کا مستحق بنے۔