Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجۡهِهِۦ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَقِيلَ لِلظَّـٰلِمِينَ ذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَكۡسِبُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اب اُس شخص کی بد حالی کا تم کیا اندازہ کر سکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟ ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے
English (Sahih International)
Then is he who will shield with his face the worst of the punishment on the Day of Resurrection [like one secure from it]? And it will be said to the wrongdoers, “Taste what you used to earn
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 24 { اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْہِہٖ سُوْٓئَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”بھلا وہ شخص جو اپنے چہرے پر روکے گا بدترین عذاب قیامت کے دن !“ یہ پھر وہی حذف کا اسلوب ہے کہ بھلا ایک شخص جس کا چہرہ قیامت کے دن بدترین عذاب کی زد میں ہوگا اور آگ کے تھپیڑوں کو اپنے چہرے پر روکنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہ ہوگا ‘ کیا وہ اس شخص کے برابر ہوجائے گا جو { فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ 5 وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ } الواقعہ کے مزے لے رہا ہوگا ؟ { وَقِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ } ”اور کہہ دیا جائے گا ان ظالموں سے کہ اب چکھو مزہ اس کا جو کچھ کمائی تم کرتے رہے تھے۔“ انہیں جتلا دیا جائے گا کہ یہ تمہارے اپنے اعمال ہی ہیں جنہوں نے آج یہاں آگ کی شکل اختیار کرلی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 24 to 26.
آدمی کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے چہرہ کو چوٹ سے بچائے۔ مگر قیامت کا عذاب آدمی کو اس طرح گھیرے ہوئے ہوگا کہ وہاں یہ ممکن نه ہوگا کہ آدمی اپنے جسم کے کسی حصہ کو اس کی زد میں آنے سے روک سکے۔ وہ ناقابلِ دفاع عذاب کے سامنے اس طرح کھڑا ہوا ہوگا گویا وہ خود اپنے چہرہ کو اس کے مقابلہ میں سپر بنائے ہوئے ہے۔
اللہ کی نظر میں سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ آدمی کے سامنے حق آئے اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ ایسے لوگ کسی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔