Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 39:24 Prev 39:22


Arabic

ٱللَّهُ نَزَّلَ أَحۡسَنَ ٱلۡحَدِيثِ كِتَٰبٗا مُّتَشَٰبِهٗا مَّثَانِيَ تَقۡشَعِرُّ مِنۡهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمۡ وَقُلُوبُهُمۡ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهۡدِي بِهِۦ مَن يَشَآءُۚ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٍ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے


English (Sahih International)

Allah has sent down the best statement: a consistent Book wherein is reiteration. The skins shiver therefrom of those who fear their Lord; then their skins and their hearts relax at the remembrance of Allah. That is the guidance of Allah by which He guides whom He wills. And one whom Allah leaves astray - for him there is no guide


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 23 { اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰـبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ } ”اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے کتاب کی صورت میں ‘ جس کے مضامین باہم مشابہ ہیں اور بار بار دہرائے گئے ہیں“ ہمارے ہاں لوگ عام طور پر لفظ ”حدیث“ کے صرف ایک ہی مفہوم سے آشنا ہیں جو کہ اس لفظ کا اصطلاحی مفہوم ہے ‘ یعنی فرمانِ رسول ﷺ کو اصطلاحاً حدیث کہا جاتا ہے۔ جبکہ اس لفظ کے لغوی معنی بات یا کلام کے ہیں اور قرآن میں لفظ ”حدیث“ اسی مفہوم میں آیا ہے۔ جیسے سورة المرسلات میں فرمایا گیا : { فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ۔ } کہ اس قرآن کے بعد اب یہ لوگ بھلا اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کا مطلب ہے : بہترین کلام۔ مُّتَشَابِہًا سے مراد قرآن کے الفاظ ‘ اس کی آیات اور اس کے مضامین کا باہم مشابہ ہونا ہے۔ یہ مشابہت قرآن کے اہم مضامین کی تکرار کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ قصہ آدم علیہ السلام و ابلیس قرآن میں سات مقامات پر مذکور ہے۔ بظاہر سب مقامات پر یہ قصہ ایک سا معلوم ہوتا ہے مگر ہر جگہ سیاق وسباق کے حوالے سے اس میں کوئی نہ کوئی نئی بات ضرور سامنے آتی ہے۔ اگر ایک شخص اپنے معمول کے مطابق سات روز میں قرآن مجید ختم کرتا ہو تو وہ ہر روز کہیں نہ کہیں اس قصے کی تلاوت کرے گا۔ اس لحاظ سے اس قصے کی تفصیلات ‘ متعلقہ آیات اور ان آیات کے الفاظ اسے باہم مشابہ محسوس ہوں گے۔ اسی طرح بعض سورتوں کی بھی آپس میں گہری مشابہت ہے اور اسی مشابہت کی بنا پر انہیں جوڑوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ -۔ - مَثَانِیَکا معنی ہے دہرائی ہوئی یا جوڑوں کی صورت میں۔ { تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ } ”اس کی تلاوت سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔“ متقی لوگ جب قرآن مجید کو پڑھتے ہیں تو ان پر اللہ کا خوف طاری ہوجاتا ہے اور اس خوف کی وجہ سے ان کی یہ کیفیت ہوجاتی ہے۔ { ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ } ”پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے نرم پڑجاتے ہیں۔“ یعنی ان کے بدن اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف جھک پڑتے ہیں۔ { ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ } ”یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ ہدایت بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے۔“ { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ } ”اور جس کو اللہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔“ جس کی گمراہی پر اللہ ہی کی طرف سے مہر ثبت ہوچکی ہو پھر اسے کون ہدایت دے سکتا ہے ؟


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہترین کتاب انسان کو عطا کی ہے۔ اس کی دو خاص صفتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ متشابہ (ملتی جلتی) ہے۔ یعنی وہ ایک بے تضاد کتاب ہے۔ اس کے ایک جزء اور اس کے دوسرے جزء میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ قرآن کی یہ صفت بتاتی ہے کہ یہ کتاب بیانِ حقیقت پر مبنی ہے۔ اگر اس کے بیانات عین حقیقت نہ ہوتے تو ضرور اس کے مختلف اجزاء کے درمیان اختلاف اور عدم یکسانیت (inconsistency) پیدا ہوجاتی۔

قرآن کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ مثانی (دہرائی ہوئی) کتاب ہے یعنی اس کے مضامین بار بار مختلف پیرایوں سے دہرائے گئے ہیں۔ قرآن کی یہ صفت اس کے کتابِ نصیحت ہونے کو بتاتی ہے۔ نصیحت کرنے والا ہمیشہ یہ چاہتاہے کہ اس کی بات سننے والے کے ذہن میں بیٹھ جائے۔ اس مقصد کےلیے وہ اپنی بات کو مختلف انداز سے بیان کرتاہے۔ یہی حکمت اعلیٰ ترین انداز میں قرآن میں بھی ہے۔

انسان کے اندر یہ خصوصیت ہے کہ جب وہ کوئی دہشت ناک خبر سنتاہے تو اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے وجود میں ایک قسم کی عاجزانہ نرمی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی حال سنجیدہ انسان کا قرآن کو پڑھ کر ہوتاہے۔ قرآن میں زندگی کی سنگین حقیقتوں کو انتہائی موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس ليے انسان جیسی مخلوق اگر واقعۃً اس کو سمجھ کر پڑھے تو اس کے جسم کے اوپر وہی کیفیت طاری ہوگی جو کسی سنگین خبر کو سن کر فطری طورپر اس کے اوپر طاری ہونا چاہيے۔


Connections

  • Previous: 39_22
  • Next: 39_24
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes