Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَوَهَبۡنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيۡمَٰنَۚ نِعۡمَ ٱلۡعَبۡدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور داؤدؑ کو ہم نے سلیمانؑ (جیسا بیٹا) عطا کیا، بہترین بندہ، کثرت سے اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا
English (Sahih International)
And to David We gave Solomon. An excellent servant, indeed he was one repeatedly turning back [to Allah]
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 30 { وَوَہَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ } ”اور ہم نے دائود علیہ السلام کو سلیمان علیہ السلام جیسا بیٹا عطا کیا۔“ { نِعْمَ الْعَبْدُ ط اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ۔ } ”وہ بہت ہی اچھا بندہ تھا۔ بیشک وہ ہماری طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 30 to 33.
حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام ایک عظیم سلطنت کے حکمراں تھے۔ ایک روز ان کی فوج کے اصیل اور تربیت یافتہ گھوڑے ان کے سامنے لائے گئے۔ پھر ان کی دوڑ ہوئی۔ یہاں تک کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے دور کے منظر میں گم ہوگئے۔ اورپھر وہ دوبارہ واپس آئے۔
اس قسم کا منظر ہمیشہ نہایت شان دار ہوتا ہے۔ ان کو دیکھ کر عام انسان فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مگر حضرت سلیمان کا حال یہ ہوا کہ وہ اس پرُ فخر منظر کو دیکھ کر خدا کو یاد کرنے لگے۔ انھوںنے کہا کہ میں نے یہ گھوڑے اپنی شان دکھانے کےلیے پسند نہیں کيے ہیں بلکہ صرف خدا کےلیے پسند کيے ہیں۔ گھوڑے کی شکل میں انھیں خدا کی عظیم کاریگری نظر آئی۔ اور وہ خدا کی عظمت کے اعتراف کے طورپر گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے — مومن ہر چیز میں خدا کی شان دیکھتا ہے اور غیر مومن ہر چیز میں اپنی شان۔