Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَوَلَمۡ يَرَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَنَّا خَلَقۡنَٰهُ مِن نُّطۡفَةٖ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٞ مُّبِينٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہو گیا؟
English (Sahih International)
Does man not consider that We created him from a [mere] sperm-drop - then at once he is a clear adversary
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 77 { اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ} ”تو کیا انسان نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اسے بنایا ہے ایک قطرہ سے ‘ تو اب یہ بن گیا ہے کھلا جھگڑنے والا !“ اب اس کی دیدہ دلیری کا یہ عالم َہے کہ یہ ہماری آیات پر اعتراض کرتا ہے اور ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ کج بحثی کرتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 77 to 83.
انسان اپنا خالق آپ نہیں۔ وہ بلا شبہ خالق کی مخلوق ہے۔ اس واقعہ کا تقاضا تھاکہ انسان کے اندر عجز کی صفت پائی جائے۔ مگر وہ حقیقت پسندی کو کھو کر ایسی بحثیں کرتا ہے جو اس کی حیثیت عجز سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
انسان کی اور کائنات کی تخلیق اول ہی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ یہ تخلیق دوسری بار بھی ممکن ہے۔ مگراس کونظر انداز کرکے انسان یہ بحث نکالتا ہے کہ مردہ انسان دوبارہ زندہ انسان کیسے بن جائے گا۔ انسان کا مُردہ ہو کر پھر زندہ حالت میں تبدیل ہونے کا واقعہ بلا شبہ قیامت میں ہوگا۔ مگردوسری چیزوں میں یہ امکان آج ہی نظر آرہا ہے۔ مثلاً درخت کو دیکھو۔ درخت بظاہر ہرا بھرا ہوتا ہے۔ مگر جب وہ کاٹ کر لکڑی کی صورت میں جلایا جاتاہے تو وہ بالکل ایک مختلف صورت اختیار کرلیتا ہے جس کو آگ کہتے ہیں۔ایک چیز کا بدل کر بالکل دوسری چیز بن جانا ایک ثابت شدہ واقعہ ہے۔ بقیہ چیزوں میں خدا آج ہی اس کو ممکن بنا رہا ہے۔ انسانوں کےلیے وہ قیامت میں اس کو ممکن بنائے گا۔ مگر یہ منوانے کےلیے نہیں ہوگابلکہ اس ليے ہوگا کہ انسان کو اس کی سرکشی کا بدلہ دیا جائے۔