Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ أَنفِقُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنُطۡعِمُ مَن لَّوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ أَطۡعَمَهُۥٓ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اُس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں “کیا ہم اُن کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو
English (Sahih International)
And when it is said to them, “Spend from that which Allah has provided for you,” those who disbelieve say to those who believe, “Should we feed one whom, if Allah had willed, He would have fed? You are not but in clear error
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 47 { وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ } ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خرچ کرو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں دیا ہے“ یعنی اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے غریبوں کی حاجت روائی کرو ‘ بھوکوں کو کھلائو ‘ یتیموں کی سرپرستی کرو ‘ خلق ِخدا کی بہبود اور بھلائی کے دوسرے کاموں میں خرچ کرو۔ { قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآئُ اللّٰہُ اَطْعَمَہٗٓ} ”تو یہ کافر کہتے ہیں اہل ِ ایمان سے کہ کیا ہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا !“ اس کے جواب میں ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے۔ وہ اگر چاہتا کہ یہ لوگ بھوکے نہ رہیں تو وہ انہیں خود ہی وافر رزق عطا کردیتا ‘ لیکن اگر اللہ نے انہیں ان کی ضروریات کے مطابق رزق نہیں دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود انہیں اسی حالت میں رکھنا چاہتا ہے۔ تو کیا ہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ نے ہی کھلانا نہیں چاہا ؟ { اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”تم تو خود ہی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہو !“ یہ جواب ہے ان کافروں کا نصیحت کرنے والوں کو کہ تم لوگ ہمیں کیا نصیحتیں کرتے ہو ‘ تمہاری تو مت ماری گئی ہے ‘ تم تو خود بھٹکے ہوئے ہو ‘ تمہاری یہ بات اور نصیحت عقل اور منطق ہی کے خلاف ہے کہ خوشحال لوگ غرباء و مساکین کا خیال رکھیں اور بھوکوں کو کھانا کھلائیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 36:45.