Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّقُواْ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اُس انجام سے جو تمہارے آگے آ رہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی اَن سنی کر جاتے ہیں)
English (Sahih International)
But when it is said to them, “Beware of what is before you and what is behind you; perhaps you will receive mercy
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 45 { وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ سبق حاصل کرو اس سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ یہاں پر اِتَّقُوْا بچنے اور ڈرنے کے بجائے سوچنے ‘ توجہ کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ اس طرح نگاہوں کے سامنے سے مراد آیات آفاقیہ آلاء اللہ اور پیچھے سے مراد نسل انسانی کی پرانی تاریخ ایام اللہ ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو زیر مطالعہ سورة کی آیت 9 کی تشریح
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 45 to 47.
آدمی کے پیچھے اس کے اعمال ہیں، اور اس کے آگے حساب کتاب کا دن ہے۔ زندگی گویا عمل کی دنیا سے انجام کی دنیا کی طرف سفر ہے۔ یہ بے حد نازک صورتِ حال ہے۔ آدمی کو اس کا واقعی احساس ہو تو وہ کانپ اٹھے۔ مگر آدمی نہ غور کرتاهے اور نہ کوئی نشانی اس کی آنکھ کھولنے والی ثابت ہوتی۔ وہ جھوٹی تاویلوں کے ذریعہ اپنے اعمال کو صحیح ثابت کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ مرجاتاہے۔