Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 35:10 Prev 35:8


Arabic

وَٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ ٱلرِّيَٰحَ فَتُثِيرُ سَحَابٗا فَسُقۡنَٰهُ إِلَىٰ بَلَدٖ مَّيِّتٖ فَأَحۡيَيۡنَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ كَذَٰلِكَ ٱلنُّشُورُ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

وہ اللہ ہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے، پھر وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر ہم اسے ایک اُجاڑ علاقے کی طرف لے جاتے ہیں اور اسی زمین کو جِلا اٹھاتے ہیں جو مری پڑی تھی مرے ہوئے انسانوں کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا


English (Sahih International)

And it is Allah who sends the winds, and they stir the clouds, and We drive them to a dead land and give life thereby to the earth after its lifelessness. Thus is the resurrection


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 9 { وَاللّٰہُ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ } ”اور اللہ ہی ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے“ { فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰہُ اِلٰی بَلَدٍ مَّیِّتٍ } ”پھر وہ اٹھا لیتی ہیں بادلوں کو ‘ پھر ہم ہانک دیتے ہیں اس بادل کو ایک ُ مردہ زمین کی طرف“ { فَاَحْیَیْنَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا } ”پھر ہم اس سے اس زمین کو زندہ کردیتے ہیں اس کے مردہ ہوجانے کے بعد۔“ { کَذٰلِکَ النُّشُوْرُ } ”اسی طرح سے ہوگا تمہارا اٹھایا جانا بھی !“ جس طرح بےآب وگیاہ بنجر زمین پر بارش کے برستے ہی زندگی کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے طرح طرح کا سبزہ اس میں سے نمودار ہونے لگتا ہے ‘ اسی طرح وقت آنے پر تم بھی اللہ کے حکم سے زمین سے نکل کھڑے ہو گے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 9 to 11.

پہلا انسان ارضی اجزا سے بنایا گیا۔ پھر خدا نے انسان کو ایک بوند میں بہ شکل بیج رکھ دیا۔ پھر انسانوںکو عورت اور مرد میں تقسیم کرکے ان کے جوڑے سے انسانی نسل چلائی۔ یہ واقعہ خدا کی بے پناہ قدرت کو بتاتا ہے۔

پھر ایک بچہ جب پیٹ میں پرورش پانا شروع کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ پیٹ کے اندر وہ تمام موافق اسباب بلا طلب موجود ہیں جو اس کو ناگزیر طورپر مطلوب تھے۔ یہ واقعہ مزید ثابت کرتاہے کہ بچے کا پیدا کرنے والا بچے کی ضرورتوں کو پہلے سے جانتا تھا ورنہ وہ پیشگی طور پر اس کا اتنا مکمل انتظام کس طرح کرتاہے۔

یہی معاملہ عمر کا ہے۔ کوئی شخص اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی عمر کا تعین کرسکے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمر کا معاملہ تمام تر کسی خارجی ہستی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے کم عمر میں اٹھالیتا ہے اور جس کو چاہتاہے لمبی عمر دے دیتاہے۔ ان سارے واقعات میں ایک خدا کے سوا کسی کا کوئی دخل نہیں پھر کیسے درست ہوسکتاہے کہ آدمی ایک خدا کے سوا کسی اور سے اندیشہ رکھے، وہ کسی اور سے امیدیں قائم کرے۔


Connections

  • Previous: 35_8
  • Next: 35_10
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes