Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَفَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ فَرَءَاهُ حَسَنٗاۖ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۖ فَلَا تَذۡهَبۡ نَفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ حَسَرَٰتٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا يَصۡنَعُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(بھلا کچھ ٹھکانا ہے اُس شخص کی گمراہی کا) جس کے لیے اُس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اُسے اچھا سمجھ رہا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے پس (اے نبیؐ) خواہ مخواہ تمہاری جان ان لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گھلے جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے
English (Sahih International)
Then is one to whom the evil of his deed has been made attractive so he considers it good [like one rightly guided]? For indeed, Allah sends astray whom He wills and guides whom He wills. So do not let yourself perish over them in regret. Indeed, Allah is Knowing of what they do
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 8 { اَفَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا } ”تو کیا وہ شخص جس کے لیے مزین ّکر دی گئی ہو اس کے عمل کی برائی اور وہ اسے اچھاسمجھ رہا ہو ہدایت پاسکتا ہے !“ آج من حیث القوم ہمارا بھی یہی معاملہ ہے۔ آج ہم فحاشی اور بےحیائی کو کلچر اور ثقافت کے خوبصورت ناموں کے ساتھ نہ صرف معاشرے میں ترویج دے رہے ہیں بلکہ اس ”ترقی“ پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ٹیوی ‘ کیبل اور انٹر نیٹ نے اس فحاشی کو گھر گھر میں پہنچا دیا ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ کسی کو اس ”اشاعت ِفاحشہ“ میں کوئی قباحت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ امریکہ میں تو ایسی societies nudists بھی پائی جاتی ہیں جن سے تعلق رکھنے والے لوگ نہ صرف لباس کو محض ایک تکلف سمجھتے ہیں بلکہ مادرزاد برہنہ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی حالت میں مخلوط محفلیں بھی سجاتے ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک میں ہم جنس پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان بھی فحاشی اور بےحیائی کی زندہ مثال ہے۔ ہم جنس پرست مرد gays ہوں یا عورتیں lesbians وہ نہ صرف انتہائی بےشرمی اور بےباکی سے اس فعل شنیع میں ملوث ہیں بلکہ انہوں نے باقاعدہ تنظی میں بنا رکھی ہیں اور ان تنظیموں کے پلیٹ فارم سے وہ سر عام اپنے نظریات کا پرچار کرتے ہیں اور اپنے قانونی و معاشرتی ”حقوق“ کے لیے سینہ تان کر مظاہرے کرتے ہیں۔ بہر حال آج کی دنیا میں بیشمار لوگ اس آیت کے الفاظ کا مصداق نظر آتے ہیں جن کے برے اعمال ان کی نگاہوں میں مزین کردیے گئے ہیں اور وہ ان برے اعمال کو نہ صرف اچھا سمجھتے ہیں بلکہ ان پر فخر بھی کرتے ہیں۔ { فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ } ”تو اللہ گمراہ کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔“ یہاں پر ”مَنْ“ کا تعلق دو طرفہ ہے۔ چناچہ اس کے دوسرے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جو ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے اور گمراہ کرتا ہے اسے جو گمراہ ہونا چاہتا ہے۔ { فَلَا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیْہِمْ حَسَرٰتٍ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ کی جان نہ گھلے ان لوگوں پر رنج کی وجہ سے۔“ اب جبکہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے تو آپ ﷺ ان کے انجام کے تصور سے ان پر افسوس کرتے ہوئے اپنی جان مت گھلائیں ‘ اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔ -۔ یہ مضمون سورة الکہف میں بایں الفاظ بیان ہوا ہے : { فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰٓی اٰثَارِہِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا۔ ”تو اے نبی ﷺ ! آپ شاید اپنے آپ کو غم سے ہلاک کرلیں گے ان کے پیچھے ‘ اگر وہ ایمان نہ لائے اس بات قرآن پر“۔ پھر یہی مضمون سورة الشعراء میں بھی مذکور ہے : { لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ۔ ”اے نبی ﷺ ! شاید آپ ہلاک کردیں گے اپنے آپ کو ‘ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے۔“ { اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌم بِمَا یَصْنَعُوْنَ } ”یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ کہ یہ لوگ کر رہے ہیں۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ سوچے اور حق اور ناحق کے درمیان تمیز کرسکے۔ جو آدمی اپنی اس فطری صلاحیت کو استعمال کرتا ہے وہ ہدایت پاتا ہے۔ اور جوشخص اس فطری صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا وہ ہدایت نہیں پاتا۔
آدمی کے سامنے جب حق آئے تو فوراً اس کے ذہن کو جھٹکا لگتا ہے۔ اس وقت اس کےلیے دوراستے ہوتے ہیں۔ اگر وہ حق کا اعتراف کرلے تو اس کا ذہن صحیح سمت میں چل پڑتا ہے۔ وہ حق کا مسافر بن جاتا ہے اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ کوئی مصلحت یا کوئی نفسیاتی پیچیدگی اس کے سامنے آ ئے اور وہ اس سے متاثر ہو کر حق کا اعتراف کرنے سے رک جائے تو اس کا ذہن اپنے عدم اعتراف کو جائز ثابت کرنے کےلیے باتیں گھڑنا شروع کرتا ہے۔ وہ اپنے برے عمل کو اچھا عمل ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے۔ یہ ایک ذہنی بیماری ہے۔ اور جو لوگ اس قسم کی ذہنی بیماری میں مبتلا ہو جائیں وہ کبھی حق کا اعترا ف نہیں کرپاتے۔یہاں تک کہ اسی حال میں مرکر وہ خدا کے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ تاکہ اپنے کيے کا انجام پائیں۔