Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لَكُمۡ عَدُوّٞ فَٱتَّخِذُوهُ عَدُوًّاۚ إِنَّمَا يَدۡعُواْ حِزۡبَهُۥ لِيَكُونُواْ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
در حقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو وہ تو اپنے پیروؤں کو اپنی راہ پر اس لیے بلا رہا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہو جائیں
English (Sahih International)
Indeed, Satan is an enemy to you; so take him as an enemy. He only invites his party to be among the companions of the Blaze
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 6 { اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَـکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا } ”یقینا شیطان تمہارا دشمن ہے ‘ چناچہ تم بھی اس کو دشمن ہی سمجھو !“ { اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَہٗ لِیَکُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ } ”یہ تو بلاتا ہے اپنے ہی گروہ کے لوگوں کو تاکہ وہ جہنم والوں میں سے ہوجائیں۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایسا انسان جس کی نیت درست نہیں اور اس کے اندر شیطانی رجحانات بالقوہ potentially موجود ہیں وہ شیطان کا آسان شکار ہے۔ چناچہ شیطان ہر ایسے انسان کی طرف خصوصی طور پر دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑنے کے بعد اسے راستے میں نہیں چھوڑتا ‘ بلکہ اس کی منزل جہنم تک پہنچا کر دم لیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ”برے“ کو اس کے گھر تک پہنچا کر چھوڑتا ہے۔ اس حوالے سے سورة الاعراف کے 22 ویں رکوع میں بلعم بن باعوراء کا واقعہ بڑا عبرت انگیز ہے۔ وہ اللہ کے نیک بندوں میں سے تھا۔ صرف عابد و زاہد نہیں ‘ عالم بھی تھا۔ لیکن جب وہ غلطی کا ارتکاب کر کے اللہ کی اطاعت سے نکل بھاگا تو شیطان نے اس کا پیچھا کیا اور اسے دھکے دیتا ہوا گمراہی اور بےحیائی میں آگے سے آگے بڑھاتا چلا گیا : { فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ۔ الاعراف ”پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا تو وہ ہوگیا گمراہوں میں سے“۔ گویا جن لوگوں کے دلوں میں کھوٹ اور ارادوں میں فتور ہو ‘ شیطان انہیں چن ُ چن کر ڈھونڈتا ہے ‘ انہیں اپنی طرف بلاتا ہے اور اپنے گروہ حزب الشیطان میں شامل کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اولیاء الرحمن اور عباد الرحمن کے زمرے میں آتے ہیں ان پر شیطان کا بس نہیں چلتا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی نوٹ کرلیجئے کہ جس طرح بعض لوگوں میں حزب الشیطان سے موافقت کا رجحان potential پہلے سے موجود ہوتا ہے اسی طرح کچھ لوگ بالقوہ potentially حزب اللہ والے بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً حضرت عمر اور حضرت حمزہ میں شروع ہی سے حزب اللہ میں شامل ہونے کی صلاحیت موجود تھی۔ چناچہ اگرچہ ان کے فیصلے میں کچھ تاخیر ہوئی ‘ قبولِ اسلام میں چھ سال لگ گئے ‘ لیکن بالآخر وہ صلاحیت ظاہر ہوگئی۔ -۔ ”حزب اللہ“ اور ”حزب الشیطان“ قرآنی اصطلاحات ہیں ‘ ان کی وضاحت سورة المجادلہ کی آخری آیات میں آئی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 35:5.