Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 35:6 Prev 35:4


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

لوگو، اللہ کا وعدہ یقیناً برحق ہے، لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے


English (Sahih International)

O mankind, indeed the promise of Allah is truth, so let not the worldly life delude you and be not deceived about Allah by the Deceiver


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 5 { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاوقفۃ } ”اے لوگو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ تو دیکھو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے“ { وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ } ”اور نہ ہی تمہیں دھوکے میں ڈالے اللہ کے بارے میں وہ بڑا دھوکے باز۔“ اس سے پہلے ہم یہی الفاظ سورة لقمان کی آیت 33 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ لفظ ”غرور“ اگر ”غ“ کی پیش کے ساتھ ہو تو مصدر ہے ‘ اور اگر ”غ“ کی زبر کے ساتھ فَعول کے وزن پر ہوتویہ مبالغے کا صیغہ ہوگا۔ چناچہ ”الـغَرُور“ کے معنی ہیں بہت بڑا دھوکے باز ‘ یعنی ابلیس لعین جو اکثر لوگوں کو اللہ کے بارے میں اس طرح بھی ورغلاتا ہے کہ اللہ بڑا رحیم ‘ کریم ‘ شفیق اور مغفرت کرنے والا ہے۔ تمہیں کا ہے کی فکر ہے ؟ تم نے کون سے ایسے بڑے گناہ کیے ہیں۔ اور یہ سودی کاروبار ! اس کا کیا ہے ؟ یہ تو سب کرتے ہیں۔ اور وہ فلاں غلط کام اگر تم سے ہوگیا ہے تو کیا ہوا ؟ اللہ غفورٌ رحیم ہے ‘ وہ تو بڑے بڑے گناہگاروں کو بخش دیتا ہے ‘ چناچہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ‘ تم جو کچھ کر رہے ہو کرتے جائو اور جس راستے پر چل رہے ہو چلتے جائو ! اللہ کی شان کریمی اور صفت ِغفاری کے نام پر انسان کو دھوکے میں ڈالنے کا یہ ایک ابلیسی حربہ ہے جس سے یہاں خبردار کیا گیا ہے کہ دیکھو ! یہ ابلیس بہت بڑا دھوکے باز ہے ‘ یہ کہیں تمہیں اللہ کی رحمت کے حوالے سے ہی دھوکے میں نہ ڈال دے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے بہلاوے میں آکر تم دنیوی زندگی کی رنگینیوں میں گم ہو کر اللہ کو بھول جائو اور اس طرح تمہاری یہ زندگی تمہارے لیے ایک بہت بڑا دھوکہ بن جائے۔ اور دیکھو ! دُنیوی زندگی کے بارے میں یہ حقیقت کبھی تمہاری نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے : { وَما الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ } آل عمران ”اور دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 5 to 7.

خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ زندگی کی نوعیت کے بارے میں جو خبر دی ہے وہ بظاہر ایک خیالی بات معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ آدمی فوراً ان سے دوچار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، دنیا کی چیزیں حقیقی نظر آتی ہیں۔ کیوں کہ آدمی آج ہی ان سے دوچار ہورہا ہے۔ موت او ر زلزلہ اور حادثات آدمی کو چوکنّا کرتے ہیں۔ یہ گویا قیامت سے پہلے قیامت کی اطلاع ہیں۔ مگر شیطان فوراً ہی لوگوں کے ذہن کو یہ کہہ کر پھیر دیتاہے کہ یہ سب اسباب کے تحت پیش آنے والے واقعات ہیں، نہ کہ خدائی مداخلت کی تحت۔ مگراس قسم کا ہر خیال شیطان کا فریب ہے۔ وہ دن آنا لازمی ہے جب کہ جھوٹ اور سچ میں تفریق ہو۔ جب کہ اچھے لوگوں کو ان کی اچھائی کا انعام ملے اور برے لوگوں کو ان کی برائی کی سزا دی جائے۔


Connections

  • Previous: 35_4
  • Next: 35_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes