Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 35:19 Prev 35:17


Arabic

وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ وَإِن تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ إِلَىٰ حِمۡلِهَا لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٞ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰٓۗ إِنَّمَا تُنذِرُ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَۚ وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفۡسِهِۦۚ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اگر کوئی لدا ہوا نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے پکارے گا تو اس کے بار کا ایک ادنیٰ حصہ بھی بٹانے کے لیے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (اے نبیؐ) تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کر سکتے ہو جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے اپنی ہی بھلائی کے لیے کرتا ہے اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف ہے


English (Sahih International)

And no bearer of burdens will bear the burden of another. And if a heavily laden soul calls [another] to [carry some of] its load, nothing of it will be carried, even if he should be a close relative. You can only warn those who fear their Lord unseen and have established prayer. And whoever purifies himself only purifies himself for [the benefit of] his soul. And to Allah is the [final] destination


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 18 { وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی } ”اور کوئی جان نہیں اٹھائے گی کسی دوسری جان کا بوجھ۔“ { وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِہَا } ”اور اگر بوجھ تلے دبی کوئی جان کسی کو پکارے گی اپنے بوجھ کے ہٹانے کے لیے“ { لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْئٌ وَّلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی } ”تو نہیں اٹھائے گا کوئی اس میں سے کچھ بھی اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہو۔“ میدانِ حشر میں اگر کوئی گنہگار اپنے گناہوں کے بوجھ کو ناقابل برداشت پا کر اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو بھی مدد کے لیے پکارے گا تو وہ بھی بیگانوں کی طرح اس کے قریب سے گزر جائے گا اور اس کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ { اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَیْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ تو انہی لوگوں کو خبردار کرسکتے ہیں جو ڈرتے ہیں اپنے ربّ سے غیب میں رہتے ہوئے اور نماز قائم کرتے ہیں۔“ اللہ پر ایمان لانے اور اس سے ڈرنے کی اہمیت تو اسی وقت تک ہے جب تک کہ غیب کے پردے حائل ہیں۔ جب یہ پردے اٹھ جائیں گے اس وقت کسی کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا۔ اس وقت تو بڑے بڑے سر کش اور نافرمان لوگ بھی سر تسلیم خم کردیں گے۔ { وَمَنْ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ } ”اور جو کوئی بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے کے لیے کرتا ہے۔“ { وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ } ”اور اللہ ہی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 35:15.


Connections

  • Previous: 35_17
  • Next: 35_19
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes