Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ أَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
لوگو، تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے
English (Sahih International)
O mankind, you are those in need of Allah, while Allah is the Free of need, the Praiseworthy
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 15 { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِج وَاللّٰہُ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ } ”اے لوگو ! تم سب اللہ کے محتاج ہو ‘ اور اللہ تو الغنی اور الحمید ہے۔“ تمہاری بیشمار احتیاجات ہیں جو اللہ تعالیٰ پوری کرتا ہے ‘ لیکن وہ خود بےنیاز ہے ‘ اس کی کوئی حاجت نہیں جو تمہیں پوری کرنا ہو۔ اور وہ ستودہ صفات ہے ‘ اپنی ذات میں خود محمود ہے ‘ کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے ‘ مگر حمد شکر و تعریف کا استحقاق اسی کو پہنچتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 15 to 18.
موجودہ دنیا میں انسان انتہائی حد تک غیر محفوظ (vulnerable) ہے۔ انسان کا سارا معاملہ فطرت کے خاص توازن پر منحصر ہے۔ یہ توازن باقی نہ رہے تو ایک لمحہ میں انسانی زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔
سورج اگر اپنے موجودہ فاصلہ کو ختم کرکے زمین کے قریب آجائے تو اچانک تمام انسان جل بھن کر خاک ہوجائیں۔زمین کے اندر اس کا بڑا حصہ بے حد گرم مادہ کی صورت میں ہے۔ اس گرم مادہ کی حرکت اوپر کی طرف ہوجائے تو سطح زمین پر ایسا زلزلہ پیداہو کہ تمام آبادیاں کھنڈر بن کر رہ جائیں۔ اوپر ی فضا سے ہر وقت شہابی پـتھر (meteors) برستے رہتے ہیں۔ اگر موجودہ انتظام بگڑ جائے تو یہ شہابئے ایک ایسی سنگ باری کی صورت اختیار کرلیں جس سے کسی حال میں بھی بچاؤ ممکن نہ ہو۔ اس طرح کے بے شمار ہلاکت خیز امکانات ہر وقت انسان کو گھیرے میں ليے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو مکمل طورپر محتاج ہے۔ انسان کو خدا کی ضرورت ہے، نہ کہ خدا کو انسان کی ضرورت۔
قیامت کا بوجھ خود اپنے گناہوں کا بوجھ ہوگا، نہ کہ اینٹ پتھر کا بوجھ۔ اینٹ پتھر کے بوجھ میں ایک شخص کسی دوسرے شخص کا حصہ دار بن سکتا ہے مگر خود اپنے برے عمل سے جو رسوائی اور تکلیف کسی شخص کو لاحق ہو وہ انتہائی ذاتی نوعیت کا عذاب ہوتاہے۔ اس میں کسی دوسرے کےلیے حصہ دار بننے کا سوال نہیں۔
حقیقت نہایت واضح ہے مگر حقیقت کو وہی شخص سمجھتا ہے جو اس کو سمجھنا چاہے۔ جو شخص اس بارے میں سنجیدہ ہی نہ ہو کہ حقیقت کیا ہے، اور بے حقیقت کیا، اس کو کوئی بات سمجھائی نہیں جاسکتی۔