Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِي لِأَجَلٖ مُّسَمّٗىۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ لَهُ ٱلۡمُلۡكُۚ وَٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ مَا يَمۡلِكُونَ مِن قِطۡمِيرٍ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
وہ دن کے اندر رات کو اور رات کے اندر دن کو پروتا ہوا لے آتا ہے چاند اور سورج کو اُس نے مسخر کر رکھا ہے یہ سب کچھ ایک وقت مقرر تک چلے جا رہا ہے وہی اللہ (جس کے یہ سارے کام ہیں) تمہارا رب ہے بادشاہی اسی کی ہے اُسے چھوڑ کر جن دوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پرکاہ کے مالک بھی نہیں ہیں
English (Sahih International)
He causes the night to enter the day, and He causes the day to enter the night and has subjected the sun and the moon - each running [its course] for a specified term. That is Allah, your Lord; to Him belongs sovereignty. And those whom you invoke other than Him do not possess [as much as] the membrane of a date seed
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 13 { یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ لا } ”وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں“ { وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَز } ”اور اس نے مسخر کیا ہے سورج اور چاند کو۔“ { کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی } ”ہرچیز چل رہی ہے ایک معین ّوقت تک۔“ { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ } ”یہ اللہ ہے تمہارا ربّ ! ُ کل بادشاہی اسی کی ہے۔“ { وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ } ”اور جنہیں تم پکارتے ہو اس کے سوا ‘ وہ ایک ذرّہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔“ عرب میں کھجور عام پائی جاتی تھی بلکہ یہ ان کی بنیادی غذائی جنس تھی ‘ اس لیے اس کے حوالے سے مختلف مثالیں بھی دی جاتیں۔ چناچہ کسی حقیر چیز کا ذکر کرنے کے لیے قرآن میں کھجور سے متعلق دو الفاظ قِطمِیر اور فَتِیلاستعمال ہوئے ہیں۔ کھجور کی گٹھلی کے اوپر جو باریک سی جھلی ہوتی ہے اسے قِطمِیر کہا جاتا ہے ‘ جبکہ فَتِیل وہ باریک سا دھاگا ہے جو کھجور کی گٹھلی کی ناف کے اندر ہوتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 35:12.