Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 35:13 Prev 35:11


Arabic

وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡبَحۡرَانِ هَٰذَا عَذۡبٞ فُرَاتٞ سَآئِغٞ شَرَابُهُۥ وَهَٰذَا مِلۡحٌ أُجَاجٞۖ وَمِن كُلّٖ تَأۡكُلُونَ لَحۡمٗا طَرِيّٗا وَتَسۡتَخۡرِجُونَ حِلۡيَةٗ تَلۡبَسُونَهَاۖ وَتَرَى ٱلۡفُلۡكَ فِيهِ مَوَاخِرَ لِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور پانی کے دونوں ذخیرے یکساں نہیں ہیں ایک میٹھا اور پیاس بجھانے والا ہے، پینے میں خوشگوار، اور دوسرا سخت کھاری کہ حلق چھیل دے مگر دونوں سے تم تر و تازہ گوشت حاصل کرتے ہو، پہننے کے لیے زینت کا سامان نکالتے ہو، اور اسی پانی میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اُس کا سینہ چیرتی چلی جا رہی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اُس کے شکر گزار بنو


English (Sahih International)

And not alike are the two bodies of water. One is fresh and sweet, palatable for drinking, and one is salty and bitter. And from each you eat tender meat and extract ornaments which you wear, and you see the ships plowing through [them] that you might seek of His bounty; and perhaps you will be grateful


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 12 { وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِق } ”اور دو سمندر ایک جیسے نہیں ہیں“ { ہٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَہٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ} ”یہ میٹھا ہے فرحت بخش ‘ اس کا پینا خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے سخت کڑوا۔“ { وَمِنْ کُلٍّ تَاْکُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا } ”اور ان سب سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت“ دونوں طرح کے سمندروں سے تم لوگ مچھلیاں شکار کر کے کھاتے ہو۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کھاری سمندر کی مچھلیوں کا گوشت کڑوا ہو اور میٹھے پانی کی مچھلیاں کھانے میں خوش ذائقہ ہوں۔ { وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَہَاج } ”اور دونوں سے ہی تم نکالتے ہو زیورات جنہیں تم پہنتے ہو۔“ { وَتَرَی الْفُلْکَ فِیْہِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ } ”اور تم دیکھتے ہوکشتیوں کو کہ چلتی ہیں اس کے سینے کو چیرتے ہوئے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر اداکرو۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 12 to 14.

زمین پر پانی کا عظیم الشان ذخیرہ موجود ہے، وسیع سمندروں میں کھاری پانی کی صورت میں، اور دریاؤں اور جھیلوں اور چشموں میں میٹھے پانی کی صورت میں۔ یہ پانی آدمی کےلیے بے شمار فوائد کا ذریعہ ہے۔ وہ پینے کےلیے اور آب پاشی کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے آبی جانور حاصل ہوتے ہیں جو انسان کےلیے قیمتی خوراک ہیں۔ کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصہ میں پھیلے ہوئے سمندر گویا وسیع آبی سڑکیں ہیں جنھوں نے سفر اور باربرداری کو بے حد آسان کردیا ہے۔ سمندروں سے موتی اور دوسری قیمتی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، وغیرہ۔

پھر وسیع خلا میں خدا نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے جن میں بے شمار فائدے ہیں۔ اس نے زمین کو سورج کے گرد اپنے محور پر کامل حساب کے ساتھ گھمارکھا ہے جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار کائناتی انتظامات ہیں جو صرف خدا کے قائم کردہ ہیں۔ پھر خدا کے سوا کون ہے جو انسان کے جذبۂ شکر کا مستحق ہو۔ اتھاہ طاقتیں رکھنے والا خدا انسان کی حاجتیں پوری کرسکتا ہے یا وہ مفروضہ معبود جو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔


Connections

  • Previous: 35_11
  • Next: 35_13
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes