Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُل لَّا تُسۡـَٔلُونَ عَمَّآ أَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ان سے کہو، “جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہو گی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی
English (Sahih International)
Say, “You will not be asked about what we committed, and we will not be asked about what you do
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 25 { قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا } ”آپ ﷺ کہیے کہ تم سے نہیں پوچھا جائے گا ہمارے جرائم کے بارے میں“ تم سمجھتے ہو کہ ہم نے نیا دین گھڑ لیا ہے ‘ ہم نے تمہارے معبودوں کو جھٹلایا ہے اور ہم نے تمہارے خاندانوں میں پھوٹ ڈال دی ہے اور یوں ہم بہت سنگین جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے تم لوگ خاطر جمع رکھو ‘ ہمارے ان جرائم کے بارے میں تم سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ اپنے ان ”جرائم“ کا حساب ہم خود ہی دیں گے۔ یہاں پر مخالف فریق کو گمراہ کہنے کے بجائے دونوں میں سے کسی ایک فریق کی گمراہی کی بات کر کے اور ان کے الزام کے مطابق جرائم کو خود اپنی طرف منسوب کر کے ”حکمت ِتبلیغ“ کا بہت اہم سبق سمجھایا گیا ہے۔ { وَلَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ } ”اور نہ ہی ہم سے پوچھا جائے گا تمہارے اعمال کے بارے میں۔“ تبلیغ کا حکیمانہ اسلوب ملاحظہ ہو ‘ جہاں اپنے لیے لفظ ”جرم“ استعمال ہوا ہے ‘ وہاں مخالف کے لیے صرف ”عمل“ کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ کسی کی مخالفانہ عصبیت کو انگیخت کا بہانہ نہ ملے اور کسی کے اندر اگر کچھ سوچنے اور غور کرنے کی آمادگی پائی جاتی ہو تو اس کا دروازہ بند نہ ہونے پائے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 34:24.