Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 34:25 Prev 34:23


Arabic

۞قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُلِ ٱللَّهُۖ وَإِنَّآ أَوۡ إِيَّاكُمۡ لَعَلَىٰ هُدًى أَوۡ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

(اے نبیؐ) اِن سے پوچھو، “کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے؟” کہو “اللہ اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے


English (Sahih International)

Say, “Who provides for you from the heavens and the earth?” Say, “Allah. And indeed, we or you are either upon guidance or in clear error


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 24 { قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”آپ ﷺ ان سے پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہے آسمانوں اور زمین سے ؟“ { قُلِ اللّٰہُ وَاِنَّآ اَوْ اِیَّاکُمْ لَعَلٰی ہُدًی اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”آپ ﷺ کہیے کہ اللہ ! اور یقینا ہم یا تم لوگ یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں !“ یعنی ہمارے اور تمہارے عقائد و نظریات میں بعد المشرقین ہے۔ ان متضاد عقائد میں سے صرف ایک عقیدہ ہی درست ہوسکتا ہے۔ چناچہ منطق اور عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے اور دوسرا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 24 to 27.

کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر کمال درجہ کی حکمت اور معنویت پائی جاتی ہے۔ ایسی کائنات خدائے عزیز وحکیم ہی کا کارنامہ ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی شخص سنجیدہ طورپر یہ گمان نہیں کرسکتا کہ وہ دوسری ہستیاں اس کے خالق ومالک ہیں جن کو جدید یا قدیم انسان نے خدا کے سوا فرض کررکھا ہے۔ پھر خدا کے سوا کون ہوسکتا ہے جس کو اس کائنات میں بڑائی کا مقام حاصل ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا مطالعہ تمام مشرکانہ نظریات کو باطل ٹھہرا تا ہے۔ اس کائنات میں وہ تمام عقیدے بے جوڑ ثابت ہوتے ہیں جن میں ایک خدا کے سوا کسی اور کےلیے کسی قسم کی بڑائی تسلیم کی گئی ہو۔ ایسی حالت میں وہی نظریہ صحیح ہوسکتا ہے جو ایک خدا کی بنیاد پر بنے۔ جس نظریہ میں ایک خدا کے سوا کسی اور ہستی کی کارفرمائی مانی جائے وہ اپنی تردید آپ ہے۔


Connections

  • Previous: 34_23
  • Next: 34_25
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes