Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَرَحًاۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا
English (Sahih International)
And do not turn your cheek [in contempt] toward people and do not walk through the earth exultantly. Indeed, Allah does not like everyone self-deluded and boastful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 18 وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ للنَّاسِ ”یعنی لوگوں سے بےرخی اور غرور وتکبر کی روش مت اختیار کرو۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ ”لفظی اعتبار سے مُخْتَال کا تعلق خیل گھوڑے سے ہے۔ گھوڑے کی چال میں ایک خاص تمکنت اور غرور کا انداز پایا جاتا ہے۔ چناچہ جب انسان اپنی چال کے انداز میں گھوڑے کے سے غرور و تمکنت کا مظاہرہ کرتا ہے تو گویا وہ مُخْتَالبن جاتا ہے۔ یہی مضمون اس سے پہلے سورة بنی اسرائیل میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَلاَ تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاج اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلاً ”اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو ‘ تم نہ تو زمین کو پھاڑ سکو گے اور نہ ہی پہنچ سکو گے پہاڑوں تک اونچائی میں“۔۔ اور اب آخری نصیحت :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 31:16.