Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 31:17 Prev 31:15


Arabic

يَٰبُنَيَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٖ مِّنۡ خَرۡدَلٖ فَتَكُن فِي صَخۡرَةٍ أَوۡ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ أَوۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَأۡتِ بِهَا ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

(اور لقمان نے کہا تھا کہ) “بیٹا، کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو، اللہ اُسے نکال لائے گا وہ باریک بیں اور باخبر ہے


English (Sahih International)

[And Luqman said], “O my son, indeed if wrong should be the weight of a mustard seed and should be within a rock or [anywhere] in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Indeed, Allah is Subtle and Acquainted


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 16 یٰبُنَیَّ اِنَّہَآ اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ ”اپنی جسامت کے اعتبار سے رائی کا دانہ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ مراد اس سے بہت ہی چھوٹی یا حقیر چیز ہے۔ قرآن مجید میں کسی چھوٹی یا حقیر چیز کا ذکر کرنے کے لیے حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ رائی کے دانے کے علاوہ بالعموم فَتِیْلاً یعنی کھجور کی گٹھلی کے ساتھ لگے ہوئے دھاگے النساء : 49 اور نَقِیْرًا یعنی کھجور کی گٹھلی کے گڑھے النساء : 124 جیسے الفاظ بھی آتے ہیں ‘ لیکن رائی کا دانہ اپنی جسامت میں ان سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔ فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِہَا اللّٰہُ ط ”انسان اشرف المخلوقات ہے ‘ اس کے اعمال چاہے اچھے ہوں یا برے وہ بھی انسان ہی کی طرح اہم ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ انسانی اعمال کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔ چناچہ انسان کا کوئی بھی عمل چاہے وہ کسی پہاڑ کی کھوہ میں وقوع پذیر ہواہو ‘ خلاء کی پہنائیوں میں یا زمین کے پیٹ کی تاریکیوں میں سر انجام دیا گیا ہو ‘ وہ اللہ سے چھپ نہیں سکتا۔اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ ”یہی مضمون سورة الزلزال میں اس طرح بیان ہوا ہے : فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ”تو جو کوئی کرے گا ذرّہ برابر بھلائی وہ اسے دیکھ لے گا ‘ اور جو کوئی کرے گا ذرّہ برابر برائی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔“ نوٹ کیجیے ! حضرت لقمان نے اپنی وصیت میں شرک اور انسانی اعمال کے لازمی نتائج کے بعد بعث بعد الموت یا جنت و دوزخ کا تذکرہ نہیں کیا۔ اس لیے کہ یہ معلومات صرف وحی یا نبوت کی تعلیمات کے ذرائع سے ہی حاصل ہوسکتی ہیں۔ چناچہ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت لقمان نہ تو خود نبی تھے اور نہ ہی ان تک کسی نبی کی تعلیمات پہنچی تھیں۔ اس لیے ان کی نصیحتوں میں صرف وہی باتیں پائی جاتی ہیں جن تک کوئی صاحب حکمت شخص غور و خوض کے ذریعے پہنچ سکتا ہے۔۔ اب ان کی تیسری نصیحت ملاحظہ ہو :


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 16 to 19.

موجودہ زمانہ میں سائنس کی ترقی نے ثابت کیا ہے کہ آڑ اور فاصلہ اضافی الفاظ ہیں۔ ايکسرے شعائیں جسم کے اندر تک دیکھ لیتی ہیں۔ دور بین اور خورد بین کے ذریعہ وہ چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں جو خالی آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔ یہ امکان جس کا تجربہ ہم کو محدود سطح پر ہورہا ہے یہی خدا کے یہاں لامحدود طور پر موجود ہے۔

دین پر خود عمل کرنا یا دوسروں کو دین کی طرف بلانا، دونوں ہی صبر چاہتے ہیں۔ اس کےلیے کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔ نفس کی خواہش پر چلنے کے بجائے نفس کے خلاف چلنا پڑتا ہے۔ اپنی بڑائی کو محفوظ کرنے کے بجائے اپنی بڑائی کو کھودینا پڑتا ہے۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں کو یک طرفہ طورپر برداشت کرنا پڑتا ہے۔

یہ سب حوصلہ مندی کے کام ہیں، اور حوصلہ مند کردار ہی کا دوسرا نام اسلامی کردار ہے۔


Connections

  • Previous: 31_15
  • Next: 31_17
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes