Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 29:41 Prev 29:39


Arabic

فَكُلًّا أَخَذۡنَا بِذَنۢبِهِۦۖ فَمِنۡهُم مَّنۡ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِ حَاصِبٗا وَمِنۡهُم مَّنۡ أَخَذَتۡهُ ٱلصَّيۡحَةُ وَمِنۡهُم مَّنۡ خَسَفۡنَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ وَمِنۡهُم مَّنۡ أَغۡرَقۡنَاۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا، پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھسا دیا، اور کسی کو غرق کر دیا اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے


English (Sahih International)

So each We seized for his sin; and among them were those upon whom We sent a storm of stones, and among them were those who were seized by the blast [from the sky], and among them were those whom We caused the earth to swallow, and among them were those whom We drowned. And Allah would not have wronged them, but it was they who were wronging themselves


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

فَمِنْہُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا ج ”یہ آندھی قوم لوط علیہ السلام پر بھی آئی تھی جو زلزلے سے تلپٹ ہوجانے والی بستیوں پر پتھراؤ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔ اس سے پہلے قوم عاد پر بھی آندھی کا عذاب آیا تھا ‘ جس کا ذکر سورة الحاقہ میں اس طرح آیا ہے : وَاَمَّا عَادٌ فَاُہْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ۔ سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍلا حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعٰیلا کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ”اور قوم عاد کے لوگ ہلاک کیے گئے تیز آندھی سے ‘ جو ان پر مسلط کردی گئی سات راتیں اور آٹھ دن تک ‘ برباد کردینے کے لیے ‘ پس تو دیکھتا ان لوگوں کو جو گری ہوئی کھجوروں کے تنوں کی طرح پچھڑے پڑے تھے“۔ روایات میں آتا ہے کہ اس ہوا میں کنکر اور پتھر بھی تھے جو گولیوں اور میزائلوں کی طرح انہیں نشانہ بناتے تھے اور وہ آندھی اتنی زور دار تھی کہ انسانوں کو پٹخ پٹخ کر زمین پر پھینکتی تھی۔وَمِنْہُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ ج ”اس سے قوم ثمود کے لوگ اور اہل مدین مراد ہیں۔ وَمِنْہُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ ج ”اس ضمن میں قارون کا ذکر سورة القصص میں گزر چکا ہے۔وَمِنْہُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ج ”غرق کیے جانے کا عذاب دو قوموں پر علیحدہ علیحدہ طریقے سے آیا تھا۔ قوم نوح علیہ السلام کو تو ان کے گھروں اور شہروں میں ہی غرق کردیا گیا تھا ‘ جبکہ فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو محلوں اور آبادیوں سے نکال کر سمندر میں لے جاکر غرق کیا گیا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 29:39.


Connections

  • Previous: 29_39
  • Next: 29_41
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes