Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقَٰرُونَ وَفِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَۖ وَلَقَدۡ جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَٱسۡتَكۡبَرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا كَانُواْ سَٰبِقِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسیٰؑ اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے
English (Sahih International)
And [We destroyed] Qarun and Pharaoh and Haman. And Moses had already come to them with clear evidences, and they were arrogant in the land, but they were not outrunners [of Our punishment]
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
The commentary on this ayah is given with ayah 29:38.
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 39 and 40.
انبیاء کی مخاطب قوموں نے جب اپنے نبی کا انکار کیا تو ان کو زمینی اور آسمانی عذاب سے ہلاک کردیا گیا — قوم لوط پر عاصب (پتھر برسانے والی طوفانی ہوا) کا عذاب آیا۔عاد اور ثمود اور اصحاب مدین پر صیحہ (رعد وبرق) کا عذاب آیا۔ قارون کےلیے خسف (زمین میں دھنسا دینے) کا عذاب آیا۔ فرعون اور ہامان کےلیے غرق (سمندر کے پانی میں ڈبا دینے) کا عذاب آیا۔
ان تمام عذابوں کا مشترک سبب لوگوں کا گھمنڈ تھا۔ یعنی حق کی دعوت کو اس ليے نہ ماننا کہ اس کو ماننے سے اپنی بڑائی ختم ہوجائے گی۔