Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيۡرٞ مِّنۡهَاۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزَى ٱلَّذِينَ عَمِلُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جو کوئی بھَلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھَلائی ہے، اور جو بُرائی لے کر آئے تو بُرائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے
English (Sahih International)
Whoever comes [on the Day of Judgement] with a good deed will have better than it; and whoever comes with an evil deed - then those who did evil deeds will not be recompensed except [as much as] what they used to do
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 84 مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْہَا ج ”سورۃ النمل کی آیت 89 میں بھی یہ مضمون بالکل ان ہی الفاظ میں بیان ہوا ہے۔وَمَنْ جَآء بالسَّیِّءَۃِ فَلَا یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”مطلب یہ کہ برائی کی سزا برائی کے عین مطابق دی جائے گی ‘ اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ لیکن نیکوکاروں کے لیے ان کی نیکیوں میں اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے دس گنا سے سات سو گنا تک اضافہ کردیا جائے گا ‘ بلکہ غور کیا جائے تو ”خَیْرٌ مِّنْہَا“ کی کوئی حد اور انتہا مقرر نہیں۔ جیسا کہ سورة البقرۃ میں ارشاد ہوا ہے : وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ”اور اللہ جس کے لیے جتنا چاہے گا بڑھا دے گا۔ اور اللہ بہت وسعت والا خوب جاننے والا ہے“۔ بہر حال ”خَیْرٌ مِّنْہَا“ کے الفاظ میں سب سے نچلی سطح پر بھی یہ بشارت موجود ہے کہ تم جیسی بھی کوئی نیکی کر کے لے جاؤ گے وہاں اس کا اجر اس سے بہتر ہی ملے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 28:83.